اگر ہم ا سدعویٰ میں غلطی پر ہیں تو پھر سارا کاروبار نبوت کا ہی باطل ہوگا اور سب وعدے جھوٹے ٹھہریں گے اور پھر سب سے بڑھ کر عجیب بات یہ ہوگی کہ خدا تعالیٰ بھی جھوٹوں کی حمایت کرنے والا ثابت ہوگا (معاذاﷲ) کیونکہ ہم اس سے تائیدیں پاتے ہیں اور اس کی نصر تیں ہمارے ساتھ ہیں۔
نزولِ مسیح اور دجال سے متعلق عام خیالات اور اصل حقیقت
اب ایک سخص کو بطور وسوسہ کے یہ اعتراض گذرتا ہے کہ مسیح آسمان سے اترے گا اور اس کے ہاتھ میں ایک حربہ ہوگا اور وہ دجال کو جس کے ہاتھ میں خدائی کی ساری قوتیں ہوں گی اور روٹیوں کا پہاڑ اس کے ساتھ ہوگا وہ قتل کرے گا اور آسمان سے تو یونہی اتر آئے گا مگر دمشق کے منارہ پر آکر سیڑھی کے بغیر نہ اترے گا اور دجال مردوں کو زندہ کرے گا وغیرہ بہت سی باتیں ہیں جو نزول المسیح کے متعلق ان لوگوں ین بنا رکھی ہیں اور دجال کے لئے کہتا ہیں کہ وہ کانا ہوگا مگر دجال اس کے لئے یہ نہیں کہہ سکے گا کہ وہ اس لئے کانا ہے کہ وحدہٗ لاشریک ہے اور سب کو ایک ہی آنکھ سے دیکھتا ہے اب ان باتوں پر اگر دانشمند غور کرے تو خود اس کو ہنسی آئے گی کہ کیا کہتے ہیں۔ہم نے جو کچھ پیش کیا ہے وہ خیالی امور نہیں بلکہ یقینی باتیں ہیں جن کے ساتھ نصوصِ قرآنیہ اور حدیثیہ ہیں اور تائیدات الٰہیہ بھی ہیں جو آج نہیں سمجھتا وہ آخر سمجھے گا۔اﷲ تعالیٰ کے نور کو کوئی بجھا نہیں سکتا۔
پیشگوئیوں میں استعارات کا استعمال
یاد رکھو ۔الفاظ کے معنے کرنے میں بڑی غلطی کھاتے ہیں بعض وقت الفاظ ظاہر پر آتے ہیں اور بعض اوقات استعارہ کے طور پر آتے ہیں جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ سب سے پہلے لمبے ہاتھوںوالی بی بی فوت ہوں گی۔اور آپ ؐ کے سامنے ساری بیبیوں نے باہم ہاتھ ناپنے شروع کردئیے اور آپ نے منع بھی نہ فرمایا ۔لیکن جب بی بی زینب رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوگیا ۔تو اس کے معنے کھلے کہ لمبے ہاتھوں والیسے مراد اس بی بی سے تھی جو سب سے زیادہ سخی تھی ۔ایسا ہی اللہ تعالیٰ کے کلام میں ایسی آیتیں موجود ہیںجن کے اگرظاہر معنے کئے جائیں ت کچھ بھی مطلب نہیں نکل سکتا ۔جیسے فرمایا :
من کان فی ھذہ اعمی فھہوا فی الاخر ۃ ( بی اسرائیل : ۵۳ )
اب آپ پروزیر آباد میں حافظ عبدالمنان سے جواس دنیا میں اندھا ہے وہ آخرت میں بھی اندھا ہے ، دریافت کریں کہ کیا آیت کایہی مطلب ہے کہ جواس دنیا میں اندھا ہے وہ آخرت میں بھی اندھا اُٹھایا