سکتی تھیں مگر نفس پرستی کی وجہ سے تعصب اور ضد سے انہوں نے ان پر غور نہیں کیا اور مخالفت اختیار کی۔ان امور کا جو میں پیش کرتا ہوں وہی انکار کر سکتا ہے جو گھر سے باہر نہیں نکلتا ور حجروں ہی میں پرورش پاتا ہے جو شخص کہتا ہے فتنہ نہیں ہوا تو میں اس کو متعصّب ہی نہین سمجھتا بلکہ وہ بے ادب اور گستاخ ہے جس کے دل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اﷲ تعالیٰ کی عزت و تکریم کا خیال نہیں ہے اور اس سے بے خبر محض ہے۔مگر عقلمند اور دین سے واقف سمجھتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ا س فتنہ کو خفیف نہیں سمجھا اور حقیقت میں خفیف نہیں۔میں بار بار اس امر پر اسی لئے زور دیتا ہوں کہ لوگوں کو اس امر پر اطلاع ملے۔ان کا ایک ایک پرچہ اگر دیکھا جاوے تو وہ ایک ایک لاکھ نکلتا ہے وہ وسائل اشاعت اور تبلیع کے جوا بپیدا ہو گئے ہیں پہلے کہاں تھے؟اس سے پہلے رد اسلام میں ایک رسالہ تو دکھائو ۔مگر اس صدی میں اگر ان رسالوں اور اخباروں اور کتابوں کو جو اسلام کے خلاف لکھے گئے ہیں‘ ایک جگہ جمع کرو تو ان کا اونچا ڈھیر کئے میل تک چلا جاوے بلکہ میں بلا مبالغہ کہتا ہوں کہ یہ اونچا ڈھیر دنیا کے بلند ترین پہاڑوں کی اونچائی سے بھی بڑھ جاوے اور اگر ان کو برابر سطح پر رکھا جاوے تو کئی میل لمبی لئن ہو۔اس وقت اسلام شہید ان کر بلا کی طرح دشمنوں کے نرغہ میں گھرا ہوا ہے اور اس پر بھی افسوس ہے کہ مخالف کہتے ہیں کہ کسی شخص کی ضرورت نہیں۔ہم مجادلہ کرنے والے سے بات کرنا نہیں ثاہتے اور اس سے بحث کرنا بجز تضیع اوقات اور کچھ نہیں ہے۔ہاں جو طالب حق ہو وہ ہمارے پاس آئے اور یہاں رہے اور پھر ہر طرح اس کی تسلی اور اطمینان کو تیار ہیں مگر افسوس تویہ ہے کہ اس قسم کے لوگ پائے نہیں جاتے بلکہ مخالف تو دو چار دس منٹ میں فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔یہ گویا مذہبی قمار بازی ہے اس طرح پر حک کھل نہیں سکتا۔آپ خود سوچیں کہ عیسائیت اسلام کو مگلوب کرنے کے واسطے کس قدر زور لگا رہی ہے کلکتہ کے بشپ نیلندن جا کر جو تقریر کی ہے اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ کوئی آدمی گورنمنٹ انگلشیہ کا سچا خیر خواہ اور وفادار نہیں ہوسکتا جب تک وہ عیسائی نہ ہو۔ایسی تقریروں اور بحثوں سے کیا یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ عیسائی نبانے کے لئے کس قدر کوشش یہ لوگ کرنی چاہتے ہیں اور ان کی نیت میں کیا ہے؟ وہ صاف چاہتے ہیں کہ کوئی مسلمان نہ رہ جاوے ۔عیسائی مشنریوں نے اس امر کو بھی تسلیم کیا ہے کہ جس قدر اسلام ان کی راہ میں روک ہے اور کوئی مذہب ان کی راہ میں روک نہیں ہے مگر یادرکھو اﷲ تعالیٰ اپنے دین کے لئے غیور ہے اس نے سچ فرمایا ہے
انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون (الحجر : ۱۰)
اس نے اس وعدہ کے موافق اپنے ذکر کی محفظت فرمائی اور مجھے مبعوث کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وعدہ کے موافق کہ ہر صدی کے سر پر مجدد آتا ہے اس نے مجھے صدی چہاردہم کا مجدد کیا۔جس کا نام کا سرالصلیب بھی رکھا ہے