ضرورت ہے یہ تناقض سطحی خیال کے آدمیوں کو نظر آتا ہے جنہوں نے مسیح موعود کی آمد اور بعثت کی غرض کو ہر گز نہیں سمجھا حالانکہ یضع الحرب کا لفظ ہی کسر صلیب کی حقیقت کو بتاتا ہے کہ اس سے مراد جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا ہے لکڑی یا دوسری چیزوں کی صلیبوں کو توڑنا نہیں بلکہ صلیبی ملت کی شکست ہے اور ملت کی شکست بینہ اور براہین سے ہوگی جیسا کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے لیھلک من ھلک عن بینۃ (الانفال : ۴۳) بہر حال ہمارے مخالف علماء جو مخالفت میں اس قدر غلو کرتے ہیں اگر ٹھنڈے دل سے اور خدا تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے کا یقین رکھ کر ان باتوں کو سوچتے تو یقینا ان کو اس کے سوا چارہ نہ ہوتا کہ وہ میرے پیچھے ہو لیتے وہ دیکھتے کہ صدی کا سر آگیا۔بلکہ ا س میں سے انیس سال گزرنے کو آگئے ہیں اور صدی پر مجدد کا آنا ضروری ہے ورنہ اس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب لازم آتی ہے۔ عیسائیت کا عظیم فتنہ اور جب وہ نصاریٰ کے فتنہ پر نظر کرتے تو ان کو نظر آتا کہ اس سے بڑھ کر اور کوئی آفت اور فتنہ اسلام کے لئے کبھی پیدا نہیں ہوا ہے بلکہ جب سے نبوت کا سلسلہ شروع ہوا ہے ایسا خطرباک فتنہ کبھی نہیں اٹھا۔فلسفیانہ رنگ میں الگ‘طبعی رنگ میں الگ مذہب پر زد ہے۔ہر شخص جو کسی فن میں کسی علم میں کوئی دسترس رکھتا ہے وہ اسی پہلو سے اسلام پر حملہ کرنا چاہتا ہے مرد‘ عورتیں واعظ ہیں اور وہ مختلف تدابیر سے اسلام سے بیزاری پیدا کرنی چاہتے ہیں اور عیسائیت کی طرھ لوگوں کو مائل کرتے ہیں۔شفا خانوں میں جاؤ تو دیکھو گے کہ دوا کے ساتھ عیسوی دین کا وعظ ضرور کیا جاتا ہے اور بسا اوقات ایسا ہوا ہے کہ بعض عورتیں یا بچے علاج کے لئے شفاخانہ میں داخل ہو گئے ہیں اور پھر ان کا پتہ اس وقت تک نہیں ملا جب تک وہ عیسائی بن کر ظاہر نہیں کئے گئے۔سادھوئوں کے رنگ میں وعظ کرتے ہیں۔غرض کوئی طریقہ وسوسہ اندازی کا ایسا نہیں جو اس قوم نے اختیار نہ کیا ہو۔اب اس فتنہ پر ان کی نگاہ ہوتی ۔تو ان کو ماننا پڑتا کہ اس فتنہ کی اصلاح و مدافعت کے لئے کوئی شخص خدا کی طرف سے ضرور آنا چاہئے۔قرآن شریف سے بے توجہی اور لا پرواہی پر نظر کرتے تو کہتے کہ انا لہ لحفظون (الحجر : ۱۰) کے وعدہ کے موافق ضرور کوئی محافظ قرآن اس وقت آنا چاہئے اور پھر سلسلہ خلافت موسوی اور سلسلہ خلافت محمدی کی مشابہت پر نظر ہوتی تو ماننا پڑتا کہ اس وقت چودھویں صدی میں ایک خاتم الخلفاء ضرور آنا چاہئے۔ اس طرح پر ایک نہیں بہت سی باتیں تھیں جو ان لوگوں کی ہدایت اور راہبری کا موجب بن