ایسا ہی عیسائی بھی اس صفت کے منکر ہیں کیونکہ وہ مسیح کو اپنا رب سمجھتے ہیں اور ربنا المسیح ربنا المسیح کہتے پھرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو جمیع مافی العالم کا رب نہیں مانتے بلکہ مسیح کو اس فیض ربوبیت سے باہر قرار دیتے ہیں اور خو دہی اس کو رب مانتے ہیں اسی طرح پر عام ہندو بھی اس صداقت کے منکر ہیں کیونکہ وہ تو ہر ایک چیز اور دسری چیزوں کو رب مانتے ہیں۔ برہم سماج والے بھی ربوبیت تامہ کے منکر ہیں کیونکہ وہ یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ خدا نے جو کچھ کرنا تھا وہ سب یک بار کر دیا اور یہ تمام عالم اور اس کی قوتیں جو ایک دفعہ پیدا ہو چکی ہیں مستقل طور پر اپنے کام میں لگی ہوئی ہیں اللہ تعالیٰ ان میں کوئی تصرف نہیں کرسکتا اور نہ کوئی ان میں تغیر و تبدل واقع ہو سکتا ہے ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ اب معطل محض ہے غرض جہاں تک مختلف مذاہب کو دیکھا جاوے اوران کے اعتقادات وغیرہ کی پڑتال کی جاوے تو صاف طور پر معلوم ہو جاوے گا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رب العالمین ہونے قائل نہیں ہیں یہ خوبی جو اعلی درجہ کی خوبی ہے اور جس کا مشاہدہ ہر آن ہو رہا ہے صرف اسلام ہی بتاتا ہے کہ اور اس طرح پر اسی ایک لفظ کے ساتھ ان تمام غلط اور بے ہودہ اعتقادات کی بیخ کنی کرتا ہے جو اس صفت کے خلاف دوسرے مذاہب والوں نے خود بنا لئے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ کی صفت الرحمن بیان کی ہے اور اس صفت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ انسان کی فطری خواہشوں کو اس کی دعا یا التجا کے بغیر اور بدوں کسی عمل عامل کے عطا کرتا ہے مثلا جب انسان پیدا ہوتا ہے توا س کے قیام و بقاء کے لئے جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ پہلے سے موجود ہوتی ہیں پیدا پیچھے ہوتا ہے لیکن ماں کی چھاتیوں میں دودھ پہلے آجاتا ہے۔ آسمان ، زمین،سورج،چاند ،ستارے،پانی،ہوا،وغیرہ وغیرہ یہ تمام اشیاء اس نے انسان کے لئے بنائی ہیں یہ اس صفت رحمانیت ہی کے تقاضے ہیں لیکن دوسرے مذاہب والے یہ نہیں مانتے کہ وہ بلا مبادلہ بھی فضل کر سکتا ہے آریہ تو سرے سے ہی اس مسئلہ کو مانتے ہی نہیں جب کہ رب العالمین کے معنی بیان کرتے وقت بتایا ہے۔ عیسائیوں نے بھی کفارہ کا مسئلہ درست کرنے کے لئے یہی اعتقاد رکھا ہے کہ وہ بلامبادلہ رحم نہیں کر سکتا ، مگر آریوں سے تو یہ پوچھنا چاہئیے کہ یہ زمین ، چاند ،سورج، ہوا ، پانی جو موجود ہے وہ کن گذشتہ کرموں کا پھل ہے۔٭ پھر اللہ تعالیٰ کی صفت رحیم بیان کی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی وہ صفت ہے جس کا تقاضا ہے کہ محنت اور کوشش کو ضائع نہیں کرتا بلکہ ان