ضروری تھا کہ جہاد کے حرام ہونے کا فتویٰ صاکر کریں پس ہم کہتے ہیں کہ اس وقت دین کے نام سے تلوار یا ہتھیار اٹھانا حرام اور سخت گناہ ہے ہم کو ان و حشی سرحدیوں پر افسوس آتا ہے کہ وہ آئے دن جہاد کے نام سے بعض وارداتیں کر کے جو دراصل اپنا پیٹ پالنے کے لئے کرتے ہیں اسلام کے نام کو بدنام کرتے ہیں اور امن میں خلل انداز ہوتے ہیں ایک سچے مسلمان کو ان وحشیوں کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں ہونی چاہئے تو پھر یکسر الصلیب کے کیا معنی ہیں؟توجہ سے سننا چاہئے کہ مسیح موعود کی بعثت کا وقت غلبہ صلیب کے وقت ٹھہرایا گیا ہے اور وہ صلیب کو توڑنے کے لئے آئے گا اب بمطلب صاف ہے کہ مسیح موعود کی آمد کی غرض عیسوی دین کا ابطال کلی ہو گا اور وہ حجت اور براہین کے ساتھ جن کو آسمانی تائیدات اور خوراق اور بھی قوی کر دیں گے اور صلیب پرستی کے مذہب کو باطل کرکے دکھادے گا اور ا سکا باطل ہونا دنیا پر روشن ہو جائے گا اور لاکھوں روحیں اعتراف کریں گی کہ فیالحقیقت عیسائی دین انسان کے لئے رحمت کا باعث نہیں ہو سکتا یہی وجہ ہے کہ ہماری ساری توجہ اس صلیب کی طرف لگی ہوئی ہے۔صلیب کی شکست میں کیا کوئی کسر باقی ہے؟ موت مسیح کے مسئلہ نے ہی صلیب کو پاش پاش کر دیا ہے کیونکہ جب یہ ثابت ہو گیا کہ مسیح صلیب پر مرا ہی نہیں بلکہ وہ اپنی طبعی موت سے کشمیر میں آکر مرا۔تو کوئی عقلمند ہمیں بتائے کہ اس سے صلیب کا باقی کیا رہتا ہے۔اگر تعصب نے اور ضد نے بالکل ہی انسان کے دل کو تاریک اور اس کی عقل کونا قابل فیصلہ نہ بنادیا ہو تو ایک عیسائی کو بھی یہ اقرار کرنا پڑے گا کہ اس مسئلہ سے عیسائی دین کا سارا تا روپودادھڑ جاتا ہے۔؎ٰ مسیح موعود کا ظہور غلبئہ صلیب کے وقت مقدر تھا غرض یہ بات بالکل صاف ہے کہ مسیح موعود کو اﷲ تعالیٰ اس وقت بھیجے گا جب صلیب کا غلبہ ہوگا جس سے مراد یہ ہے کہ صلیبی دین کا فتنہ بڑھا ہوا ہوگا اس کی اشاعت اور توسیع کے لئے ہر ایک قسم کے حیلوں کو کام میں لایا جائے گا اور دنیا میں وہ طلم و زور جس کا دوسرے لفظوں میں شرک او ر مردہ پرستی نام ہو سکتا ہے‘ پھیلا یا جاوے گا اس وقت اﷲ تعالیٰ جس شخص کو بھیجے گا اس کا کام یہی ہوگا کہ اس ظلم و زور س یدنیا کو پاک کرے اور مردہ پرستی اور صلیب پرستی کی لعنت سے دنیا کو بجائے اس طرح پر وہ صلیب کو توڑے گا۔بظاہر یہ تنا قض معلوم ہوتا ہے کہ اس کے کاموں میں سے یضع الحرب بھی لکھا ہے کہوہ لڑائیاں نہ کرے گا اور صلیب کے توڑنے میں لڑائیوں کی