کو بجھائے ۔مگر خدا کا شکر ہے کہ اس نے ہم کو صرف ضروریات محسوسہ مشہودہ تک ہی نہیں رکھا بلکہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت وعزت کے اظہار کے لئے بہت سی پیشگوئیاں پہلے سے اس وقت کے لئے مقرر رکھی ہوئی ہیں جن سے صاف پایا جاتا ہے کہ اس وقت ایک آنے والا مرد ہے اور اس کا نام مسیح موعود اور اس کا کام کسر صلیب ہے اب اس ترتیب کے ساتھ ہر ایک سلیم الفطرت کو اتنا تو ماننا پڑے گا کہ بجز اس تسلیم کے چارہ نہیں کہ کوئی مرد آسمانی آوے اور اس کا کام اس وقت کسر صلیب ہی ہونا چاہیے۔
کسرِ صلیب کی حقیقت
لیکن غور طلب امر یہ ہے کہیہ جو فرمایا گیا ہے کہ کسر صلیب مسیح موعود کا کام ہو گا اس کا کیا مطلب ہے کیا وہ لکڑی کی صلیب کو توڑے گا؟ اور اس سے فائدہ کیا ہوگا؟صاف ظاہر ہے کہ لکڑی کی صلیب کو اگر توڑتا پھرے گا تو یہ کوئی عظیم الشان کام نہیں۔اور نہ اس کا کوئی معتد بہ فائدہ ہو سکتا ہے اگر وہ لکڑی کی صلیب توڑے گا تو اس کی بجائے سونے چاندی اور دھاتوں کی صلیبیں عیسائی بنالیں گے اور ا س سے کیا نقصان ہوا اور پھر حضرت ابو بکر ؓ اور یزید اور صلاح الدین نے بہت سی صلیبیں توڑیں تو کیا وہ اس ایک امر سے مسیح موعود بن گئے؟نہیں‘ ہر گز نہیں۔
معلوم ہوا کہ اس سے یہ مراد ہر گز نہیں ہو سکتی کہ وہ لکڑی کی صلیب جو بعض عیسائیوں نے لٹکائی ہوئی ہے مسیح موعود تورتا پھرے گا بلکہ ا سکے اندر ایک حقیقت ہے اور ا سحقیقت کی تائید میں حدیث کا ایک اور لفظ یضع ا لحرب آیا ہے یعنی مسیح موعود لڑائیوں کواٹھادے گا اب ہمیں کوئی سمجھاوے کہ ایک طرف تو مسیح موعود کا یہ کام ہے کہ وہ لڑائی کے سلسلہ کو یکدفعہ اٹھادے اور دین کے لئے لڑائی کا نام لینا حرام سمجھا جاوے اور دوسری طرف یہ بھی صاف ثابت ہوتا ہے اس منشاء کی کہ اس وقت لڑائیاں حرام ہوں گی۔اچھا‘لڑائیاں ہوں گی نہیں اور صلیب توڑنا مسیح موعود کا کام ہے پھر سوچ کر دیکھو کہ ہمارے اس دعویٰ کی تائید صاف طور پر ہوتی ہے یا نہیں کہ صلیب توڑنے سے یہ لکڑی یا پیتل وغیرہ کی صلیبیں (جو عیسائی شرک کے طور پر گلے میں لٹکائے پھرتے ہیں) توڑنا مراد نہیں ہے بلکہ یہ لفظ ایک اور حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے اور وہی ہے جو ہم لے کر آئے ہیں ہم نے صاف طور پر اعلان کیا ہے کہ اس وقت جہاد حرام ہے کیونکہ جیسے مسیح موعود کا وہ کام ہے یضع الحرب بھی اس کا کام ہے۔اس کام کی رعایت سے ہم کو