بننا ہوگا مجھے بے دین اور گمراہ کہنے میں دیر ہوگی مگر پہلے اپنی گمراہی اور روسیاہی کو مان لینا پڑے گا مجھے قرآن و حدیث کا چھوڑنے والا کہنے سے پہلے خود قرآن اور حدیث کو چھوڑدینا پڑے گا اور پھر بھی وہی چھوڑے گا۔میں قرآن و حدیث کا مصدق و مصداق ہوں۔میں گمراہ نہیں بلکہ مہدی ہوں میں کافر نہیں بلکہ انااول امؤمنین کا مصداق صحیح ہوں اور جو کچھ میں کہتا ہوں خدا نے مجھ پر ظاہر کیا کہ یہ سچ ہے۔ خدا تعالیٰ سے فیصلہ طلب کریں جس کو خدا پر یقین ہے جو قرآن اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو حک مانتا ہے اس کے لئے یہی حجت کافی ہے کہ میرے منہ سے سنکر خاموش ہو جائے لیکن جو دلیر اور بے باک ہے اس کا کیا علاج؟خدا خود اس کو سمجھائے گا اس لئے میں چاہتا ہوں کہ آپ خدا کے واسطے اس امر پر غور کریں اور اپنے دوستوں کو بیھ وصیت کریں کہ وہ میرے معاملے میں جلدی سے کام نہ لیں۔بلکہ نیک نیتی اور خالی الذہن ہو کر سوچیں اور پھر خدا تعالیٰ سے اپنی نمازوں میں دعائیں مانگیں کہ وہ ان پر حق کھول دے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر انسان تعصب اور ضد سے پاک ہو کر حق کے اظہر کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرے گا تو ایک چلّہ نہ گزرے گا کہ اس پر حق کھل جائے گا مگر بہت ہی کم لوگ ہیں جو ان شرائط کے ساتھ خدا تعالیٰ س یفیصلہ چاہتے ہیں اور اس طرح پر اپنی کم سمجھی یا ضدو تعصب کی وجہ سے خدا کے ولی کا انکار کر کے ایمان سلب کرا لیتے ہیں کیونکہ جب ولی پر ایمان نہ رہے تو ولی جو نبوت کے لئے بطور میخ کے ہے۔اسے پھر نبوت کا انکار کرنا پڑتا ہے اور نبی کے انکار سے خدا کا انکار ہوتا ہے اور اس طرح پر بالکل ایمان سلب ہو جاتا ہے۔ ایک مصلح کی ضرورت اس وقت ضروری ہے کہ خوب غور کر کے دیکھا جاوے کیا عیسائی فتنہ نہیں ہے جو من کل حدب ینسلون (الانبیاء : ۹۷) کا مصداق ہو کر لاکھوں انسانوں کو گمراہ کر رہا ہے اور مختلف طریق اس نے اپنی اشاعت کے رکھے ہیں۔اب وقت ہے کہ اس سوال کا جواب دیا جاوے کہ اس فتنہ کی اصلاح کرنے والے کا نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کای رکھا ہے؟ صلیب کا زور تو دن بدن بڑھ رہا ہے اور ہر جگہ اس کی چھؤنیاں قائم ہوتی جاتی ہیں مختلف مشن قائم ہو کر دو ر دراز ملکوں اور اقطاع عالم میں پھیلتے جاتے ہیں اس لئے اگر اور کوئی بھی ثبوت اور دلیل نہ ہوتی تب بھی طبعی طور پر ہم کو ماننا پڑتا کہ اس وقت ایک مصلح کی ضرورت ہے جو اس فساد کی آگ