جبکہ وہ دیکھتا ہے کہ اندرونی اور بیرونی فساد حد سے بڑھے ہوئے ہیں اور خدا تعالیٰ نے باوجود وعدہ
انا نحن نزلنا الذکروانا لہ لحفظون (الحجر : ۱۰)
کے ان کی اصلاح کا کوئی انتظام نہ کیا جب کہ وہ اس امر پر بظاہر ایمان لاتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے آیت استخلاف میں وعدہ کیا تھا کہ موسوی سلسلہ کی طرح محمدیؐ سلسلہ میں بھی خلفاء کا سلسلہ قائم کرے گا۔مگر اس نے معاذاﷲ اس وعدہ کو پورا نہیں کیا اور اس وقت کوئی خلیفہ اس امت میں نہیں اور نہ صرف یہاں تک ہی بلکہ اس بات سے بھی انکار کرنا پڑے گا کہ قرآن شریف نے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مثیل موسیٰ قرار دیا ہے یہ بھی صحیح نہیں ہے معاذاﷲ۔کیونکہ اس سلسلہ کی اتم مشابہت اور مماثلت کے لئے ضروری تھا کہ اس چودھویں صدی پر اسی امت میں سے ایک مسیح پیدا ہوتا اسی طرح پر جیسے موسوی سلسلہ میں چودھویں صدی پر ایک مسیح آیا۔اور اسی طرح پر قرآن شریف کی اس آیت کو بھی جھٹلانا پڑے گا جو
اخرین منھم لما یلحقو ابھم (الجمعہ : ۴)
میں ایک آنے والے احمدی بروز کی خبر دیتی ہے اور اس طرح پر قرآن شریف کی بہت سی آیتیں ہیں جن کی تکذیب لازم آئے گی بلکہ میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ الحمد سے لے کر والناس تک سارا قرآن چھوڑنا پڑے گا پھر سوچو کہ میری تکذیب کوئی آسان امر ہے یہ میں ازخود نہیں کہتا بلکہ خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ حق یہی ہے کہ جو مجھے چوڑے گا اور میری تکذیب کرے گا وہ زبان سے نہ کرے مگر اپنے عمل سے اس نے سارے قرآن کی تکذیب کردی اور خدا کو چھوڑ دیا۔
اس کی طرف میرے ایک الہام میں بھی اشارہ ہے انت منی وانا منک بے شک میری تکذیب سے خدا کی تکذیب لازم آتی ہے اور میرے اقرار سے خدا تعالیٰ کی تصدیق ہوتی اور اس کی ہستی پر قوی ایمان پیدا ہوتا ہے۔اور پھر میری تکذیب میری تکذیب نہیں یہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب ہے اب کوئی اس سے پہلے کہ میری تکذیب اور انکار کے لئے جرأت کرے۔ذرا اپنے دل میں سوچے اور اس سے فتویٰ طلب کرے کہ وہ کس کی تکذیب کرتا ہے؟ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیوں تکذیب ہوتی ہے؟ اس طرح پر کہ آپؐ نے جو وعدہ کیا تھا کہ ہر صدی کے سر پر مجدد آئے گا۔وہ معاذاﷲ جھوٹا نکلا۔پھر آپ نے امامکم منکم فرمایا تھا وہ بھی معاذاﷲ غلط ہوا ہے اور آپ نے جو صلیبی فتنہ کے وقت مسیح کے آنے کی بشارت دی تھی وہ معاذاﷲ غلط نکلی کیونکہ فتنہ تو موجود ہو گیا مگر وہ آنے والا امام نہ آیا۔اب ان باتوں کو جب کوئی تسلیم کرے گا عملی طور پر کیا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مکذب ٹھہرے گا یا نہیں؟
پس پھر میں کھول کر کہتا ہوں کہ میری تکذیب آسان امر نہیں۔مجھے کافر کہنے سے پہلے خود کافر