ہو گی اس کا مطلب یہی ہے کہ اس وقت دنیا میں شرک اور زُور کا بہت زور ہو گا چنانچہ اس وقت دیکھ لو کیسی بت پرستی ،صلیب پرستی، مردہ پرستی اور قسم قسم کی پرستش ہو رہی ہے اور حقیقی اور سچّے خدا کو بالکل چھوڑ دیا گیا ہے ۔ ۱؎
ایک مصلح کی ضرورت
اب ان تمام امور کو یکجا کر کے دانشمند غور کرے کہ جو کچھ ہم کہتے ہیں کیا وہ اس قابل ہے کہ سر سری نگا ہ سے اسے رد کر دیا جائے؟ یا یہ کہ اس پر پورے غور اور فکر سے کام لیا جاوے ۔جو کچھ ہمارا دعویٰ ہے کیایہ صدی کے سر پر ہے یا نہیں ؟ اگر ہم نہ آتے تب بھی ہر ایک عقلمند اور خدا ترس کو لازم تھا کہ وہ کسی آنے والے کی تلاش کرتا ۔کیونکہ صدی کا سر آگیا تھا اور اب تو جب کہ بیس برس گزرنے کو ہیں اور بھی زیادہ فکر کی ضرورت تھی موجود فساد پکار پکار کر کہہ رہا تھا کہ کوئی شخص اصلاح کے لئے آنا چاہئے ۔عیسائیت نے وہ آزادی اور بے قیدی پھیلائی ہے جس کی کوئی حد ہی نہیں ہے اور مسلمانوں کے بچوں پر جو اس کا اثر ہوا ہے اسے دیکھ کر کہنا پڑتا ہے کہ مسلمانوں کے بچے ہی نہیں ہیں ۔
23- 3-05 Amira
کاسر الصلیب مسیح موعود کا ہی دوسرا نام ہے
ساری باتوں کو چھوڑ دو اس صلیبی فتنہ ہی کی اصلاح کے لئے جو شخص آئے گا اس کا نام کیا تکھا جائے گا؟ یہ فتنہ بالطبع اپنی اصلاح کرنے والے کا نام ک اسرا الصلیب رکھتا ہے اور یہ مسیح موعود کا دوسرا نام ہے قرآن اور حدیث نے مختلف طریقوں پر اس مضمون کو ادا کیا ہے اور آنے والے موعود کی بشارت دی ہے۔اس کو خوب سمجھ لینا چا ہئے۔کیونکہ جب انسان ناقص طور پر سمجھتا ہے گویا کچھ نہیں سمجھتا لیکن جب کامل غور اور فکر کے بعد ایک بات کو سمجھ لیتا ہے پھر مشکل ہوتا ہے کہ کوئی اسے گمراہ کر سکے۔اس لئے میں آپ کو مشورہ دیتا ہوں کہ اس سوال کو حل کرنے کی خوب فکر کریں۔یہ معمولی اور چھوٹی سی بات نہ سمجھیں بلکہ یہ ایمان کا معاملہ ہے جنت اور دوزخ کا سوال ہے۔
مسیح موعود کی تکذیب اور انکار کا نتیجہ
میرا انکار میرا نکار نہیں ہے بلکہ یہ اﷲ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار ہے کیونکہ جو میری تکذیب کرتا ہے وہ میری تکذیب سے پہلے معاذاﷲ اﷲ تعالیٰ کو چھوٹا ٹھہرالیتا ہے