گا ۔ اب ان ساری شہادتوںکوجمع کر واوربتاؤ کہ کیااس وقت ضرورت نہیں کہ کوئی آسمانی مرد نازل ہوا؟ جب یہ مان لیا گیا کہ صدی پرمجدد آناضروری ہے تو اس صدی پر مجددضرور ہوگا پھرجب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مماثلت موسیٰ علیہ السّلام سے ہے تواس مماثلت کے لحاظ سے ضروری ہے کہ اس صدی کا مجدد ہوکیونکہ ( مسییح ) چودھویں صدی کے پر موسیٰ پر آیا تھا اور آجکل چودھویں صدی ہے
چودہ کے عدد کوروحانی تغیّر سے مناسبت ہے
چودہ کے عدد کو بڑ ی مناسبت ہے چودھویں صدی کاچاند مکمل ہوتاہے اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے
ولقد نصراکم اللہ یبد ر و انتم اذلۃ ( آل عمران : ۱۲۴ )
میں اشارہ کیاہے ۔ یعنی ایک بدروہ تھا جب رسول اللہ ﷺنے مخالفوں پر فتح پائی اس وقت بھی آپ ؐ کی جماعت قلیل تھی اور ایک بدر یہ ہے ۔بدر میں چودھویں صدی کی طرف اشارہ ہے اس وقت بھی اسلام کی حالت اذلۃ ہورہی ہے سو ان سارے وعدوں کے موافق اللہ تعالیٰ نے مجھے مبعوث کیاہے
آنے والے موعود کی ایک علامت
احادیث میں یہ بھی آیا ہے کہ آنے والے موعود کے وقت دنیاظلم اور زُور سے بھری ہوئی ہوگئی ۔ظلم اورزُور سے یہ مراد نہیں کہ اسوقت حکومت ظالم ہوگی جو لوگ یہ سمجھتے ہیںوہ سخت غلطی کرتے ہیں آنے والے مسیح کے وقت میں ضروری ہے کہ سلطنت عادل ہو اور امن ہواوراہم اللہ تعالیٰ کاشکر اداکرتے ہیں کہ ہم کوایسی عادل اورامن دوست گورنمنٹ اسنے عطا کی ہے جس کی نظیر آج دنیاکی کسی سلطنت میں نہیں ہے جیسے مسیح کے زمانہ میں رومی گورنمنٹ جو اپنے عدل و انصاف کے لیے مشہور تھی مگر ہماری گورنمنٹ رومی گورنمنت سے بدرجہا بہتر ہے اور بڑھ چڑھ کر عادل ہے یہاں تک کہ اس مقدمہ میں جو پادری ہٹری مارٹن کلارک کی طرف سے مجھ پر ہو اتھا کپتان ڈگلس سنے جو ان دنوں گورداس پور کاڈپٹی کمشنر تھا۔باوجود یکہ بعض کوتاہ اندیشوں کا یہ خیال تھا……کہ ایک معزز پادری کی طرف سے مقدمہ ہے ۔ لیکن اس انصاف پسند حاکم نے اصلیت کو نکال لیا اور معلوم کر لیا کہ وہ مقدمہ بعض ادنیٰ درجے کے آدمیون کی چالاکی کانتیجہ تھا۔کپتان ڈگلس جو آج کل دہلی میں ڈپٹی کمشنر ہیں ہمیشہ تک اس عدیم المثال کے باعث مشہور رہیںگے اور یہ تو گور منٹ کے ایک عہدہ دار کی مثال ہے اور ایسی ہزاروں لاکھوں مثالیں ہیں غرض احادیث میں آیا ہے کہ ج وہ موعود آئے گا تو دنیا ظلم اور زُور س بھری ہوئی