ہے اس میں اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے ۔
وعداللہ الذین امنو منکم وعملوالصلحت لیستخلفنھم فی الارض کما استخلف الذین من قبلھم ( نور : ۵۶ )
اس آیت میں وعدہ استلخلاف کے موافق جو خلیفے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلہ میں ہوں گے وہ پہلے خلیفوں کی طرح ہوں گے اسی طرح قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مثیل موسیٰ فرمایا گیا ہے جیسے فرمایا:۔
اناا رسلناا لیکم ورسو لا شاھداعلیکم کما ارسلنا الی فرعون رسولا ۔ ( المزمل : ۱۶ )
اور آ پ مثیل موسیٰ استشناء کی پیشگوئی کے موافق بھی ہیں پس اس مماثلت میں جیسے کما کا لفظ فرمایاگیا ہے ویسے ہی سورہ نو ر میں کما کا لفظ ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کے موسوی سلسلہ اور محمدی میں مشابہت تامہ ہے موسوی سلسلہ سے کے خلفاء کا سلسلہ حضرت موسیٰ علیہ السّلام کے بعد چودھویں صدی میں آئے تھے اس مماثلت کے لحاظ سے کم ازکم اتنا تو ضروری ہے کہ چودھویں صدی میں ایک خلیفہ اسی رنگ و قوت کا پیدا ہو جو مسیح سے مماثلت رکھتا ہو اور ا س کے قلب اور قدم پر ہو ۔پس اگر اللہ تعالیٰ اس امر کی اور دوسری شہادتیں اور تائیدیں نہ ہو ورنہ آـپؐ کی مماثلت میں معاذا للہ ایک نقص اورضعف ثابت ہو تا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے نہ اس مماثلت کی تصدیق اورتائید فرمائی بلکہ یہ بھی ثابت کر دکھایا کہ مثیل موسیٰ سے اور تمام انبیاء علیہم السلام سے افضل تر ہے ۔
مسیح موعود کی آمد کا مقصد
حضرت مسیح علیہ اسلا م جیسے اپنی کوئی شریعت لے کر نہ آئے تھے بلکہ توریت کو پورا کرنے آئے تھے اسی طرح پر محمدی سلسلہ کا مسیح اپنی کوئی شریعت لے کر آیا بلکہ قرآن شریف کے احیا ء کے لیے آیا ہے اور اس تکمیل کے لئے آیا ہے جو تکمیل اشاعت ہدایت کہلاتی ہے ۔
تکمیل اشاعت ہدایت کے متعلق یاد رکھناچاہئیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جو اتمام نعمت اور اکمال الدین ہو اتو اس کی دوصورتیں ہ یں ۔ اول تکمیل ہدایت ۔دوسری تکمیل اشاعت ہدایت۔ تکمیل ہدایت من کل وجود آپؐ کی آمد اول سے ہوئی اور تکمیل اشاعت ہدایت آپ ؐ کی آمد ثانی سے ہوئی کیونکہ سورۃ جمعہ میں جو
اخر ین منھم ( الجمعۃ : ۷ ) والی آیت آپ ؐ کے فیض اور تعلیم سے ایک اورقوم کے تیار کرنے کی ہدایت کرتی ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی بعثت اور بے اور یہ بعثت بروزی رنگ میں ہے جو اس وقت ہو رہی ہے پس یہ