نہیں چاہت کہ اس کی حفاظت اور دشمنوں کی وست بردسے بچانے کے لیے ہر طرح کوشش کرے ؟ باغات کے گرد کیسے کیسے احاطے حفاظت کے لیے بنائے جاتے ہیں اور مکانات کی آتشزدگیوں سے بچانے کے لیے نئے نئے مصالح تیار ہوتے ہیں ۔اور تجلی سے بچانے کے لیے تاریں لگائی جاتی ہیں یہ امور اس فطرت کو ظاہر کرتے ہیں جو بالطبع حفاظت کے لیے انسانوں میں پھر کیا اللہ تعالیٰ کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے دین کی حفاظت کرے ؟ بے شک حفاظت کرت ہے اور اس نے ہر بلا کے وقت اپنے دین کو بچایاہے ۔ اب بھی جب کے ضرو رت پڑی اس نے مجھے اسی لیے بھیجا ہے ۔ ہا ں یہ امر حفاظت کا مشکوک ہو سکتا ہے یا اس کا انکار ہوسکتا تھا ۔ اگر حالات اور ضرورتیں اس کی موید نہ ہوتیں ۔ مگر کئی کروڑ کتابیں اسلام کے رو میں شائع ہوچکی ہیں اور ان اشتہاروں اور دوورقہ رسالوں کا تو شمار ہی نہیں جو ہر روز اور ہفتہ وار اورماہوار پادریوں کی طرف سے شائع ہوتے ہیں ان گالیوں کو اگر جمع کیا جاوے جو ہمارے ملک کے مرتد عیسائیوں نے سید المصومین صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی پاک ازداوج کصی نسبت شائع کی ہیں تو کئی کوٹھے ان کتابوں سے بھرسکتے ہیں اوراگر ان کو ایک دوسرے سے ملا کر رکھا جائے تو وہ کئی میل تک پہنچ جائیں ۔عماد الدین ۔صفدرعلی اور شائق وغیرہ نے جیسی تحریریں شائع کی ہیں وہ کسی پر پوشیدہ نہیں ۔عماد الدین کی تحریروں کے خطرناک ہونے کا بعض انصاف پسند عیسائیوں کو بھی اعتراف ہے چناچہ لکھنؤ سے جو ایک اخبار شمس الاخبار نکلا کرتا تھا اس میں اس کی بعض کتابوں پریہ رائے لکھی گئی تھی کہ اگر ہندوستان میں پھر کبھی غدر ہو گا تو اس میں ایسی تحریروں سے ہوگا ایسی حالتوں میں بھی کہتے ہیںکہ اسلام کاکیا بگڑ اہے اس قسم کی باتیں وہ لوگ کرسکتے ہیں جن کویا تو اسلام سے کوئی تعلق درد نہیںاوریا وہ لوگ جنہوں نے حجروں کی تاریکی میں پرورش پائی ہے اور ان کو باہر کی دنیا کی چھ خبر نہیں ہے پس ایسے لوگ اگر ہیں توان کی کچھ پروا نہیں ہاں وہ لوگ جو نور قلب رکھتے ہیں جن کو اسلام کے ساتھ محبت اورتعلق ہے اور زمانہ کے حالا ت سے آشنا ہیں ان کو تسلیم کرنا پڑتاہے کہ یہ وقت کسی عظیم الشان مصلح کاوقت ۔ج مامور الٰہی ہونے کی شہادتیں غرض اس وقت میرے مامور ہونے کی بہت سی شہادتیں ہیں۔ اول ۔اندرونی شہادت ،دوم بیرونی شہادت ،سوم صدی کے سر پر مجددکی نسبت حدیث صحیح۔ چہارم ۔ انانحن نزلنا الذ کر و انا لہ لحفظون ( الحجر : صص۱۰ ) اب پانچویں اور زبردست شہادت میں اور پیش کرتاہوں اور وہ سورہ نوار میں وعدہ استخلاف