پیشگوئی اور بشارات کے موافق خدا تعالیٰ نے یہ سلسلہ قائم کیا
اب کوء ہمارے دعویٰ کو چھوڑے اور الگ رہنے دے مگر ان باتوں کو سوچ کر جواب دے ۔میری تکذیب کر وگے تو اسلام کو ہاتھ سے تمھیں دینا پڑے گامگر میں سچ کہتا ہوں کہ قرآن شریف کے وعدے کہ موافق اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی حفاظت فرمائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیکی بشارت کے موافق خدا تعالیٰ نے یہ سلسلہ قائم کیا اور یہ ثابت ہوگیا کہ
صدق اللہ و رسولہ
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی باتیں سچّی ہیں ظالم طبع ہے وہ انسان جو ان کی تکذیب کرتا ہے ۔ ۱؎
اللہ تعالیٰ نے مجھے مامور کیا ہے
اب میرا یہ دعویٰ ہے کہ اس صدی پر میں تجدید دین کے لیے بھیجا گیا ہوںصاف ہیمیں زور سے کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے مامور کیا ہے اور اس پر بائیس برس سے زیادہ عرصہ گذر گیا ہے اس قدر تک میری تائیدوں کا ہونا یہ الزام اور حجت ہے کے تم لوگوںپر ۔کیونکہ میں حدیث اورقرآن کی بنا پر کیا ہے اب جولوگ میری تکذیب کریں گے وہ میری نہیں اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب کریں گے ۔ ان کو کوئی حق تکذیب کا نہیں پہنچتا ۔جب تک وہ میری جگہ دوسرا مصلح نہ پیش کریں کیونکہ زمانہ اور وقت بتاتا ہے کہ مصلح آنا چاہئیے ۔ کیونکہ ہر جگہ مفاسد پیداہوچکے ہیں ۔ اور قرآن شریف کہتا ہے کہ کہ ایسی آفتوں کے وقت حفاظت قرآن کے لئے مامور آتا ہے او رحدیث کہتی ہے کہ ہر صدی کے سر پر مجددبھیجا جاتاہے پھر ضرورتیں موجود ہیں اوریہ وعدے حفاظت اور تجدید دین کے الگ ہیں تو ان ضروتوں اور وعدوں کے موافق آنے والے کی تکذیب کی تو دو ہی صورتیں ہیں یا کوئی اور مصلح پیش کیاجاوے ان وعدوں کی تکذیب کی جاوے ۔
حفاظتِ دین کی ضرورت
بعض لوگ ایسے دیکھے جاتے ہیں جو کہتے ہیں کہ حفاظت کہ کوئی ضرور ت نہیں ہے وہ سخت غلطی کرتے ہیں دیکھو جو شخص باغ لگاتا ہے یا عمارت بناتا ہے تو کیا اس کا فرض نہیں ہوتا یا وہ