جس قدر ضعف اور کمزوریوں کے عوارض ہوتے ہیں ان کا شکار رہا آخر یہودیوں کے ہاتھوں پیٹا گیا اور انہوں نے پکڑ کر صلیب پر چڑھا دیا۔
اب اس صورت کو جو یسوع کی ( عیسائیوں نے جس کو خدا بنا رکھا ہے ) انجیل سے ظاہر ہوتی ہے کسی دانشمند کے سامنے پیش کرو کیا وہ کہہ دے گا کہ بے شک اس میں تمام صفات کاملہ پائی جاتی ہیں اور کوئی نقص اس میں نہیں ہرگز نہیں بلکہ انسانی کمزوریوں اور نقصوں کا پہلا اور کامل نمونہ اسے ماننا پڑے گا، تو الحمد للہ کہنے والا کب ایسے کمزور اور مصلو ب اور ملعون خدا کو مان سکتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن عیسائیوں کے بالمقابل ایسے خدا کی طرف بلاتا ہے جس میں کوئی نقص ہو ہی نہیں سکتا۔
پھر آریہ مذہب کو دیکھو وہ کہتے ہیں کہ ہمارا پرمیشر وہ ہے جس نے ذرات عالم اور ارواح ِعالم کو بنایا ہی نہیں بلکہ جیسا وہ ازلی ابدی ہے ، ویسے ہی ہمارے ذرات جسم وغیرہ بھی خدا کے بالمقابل اپنی ایک مستقل ہستی رکھنے والی چیزیں ہیں جو اپنے قیام اور بقاء کے لئے اس کی محتاج نہیں ہیں بلکہ ایک طرح وہ اپنی خدائی چلانے کے واسطے ان چیزوں کا محتاج ہے وہ کسی چیز کا خالق نہیںاور پھر اس بات کا سمجھ لینا بھی کچھ مشکل نہیں کہ جو خالق نہیں وہ مالک کیسے ہو سکتا ہے اور ایسا ہی ان کا اعتقاد ہے کہ وہ رازق کریم وغیرہ کچھ بھی نہیں کیونکہ انسان کو جو کچھ ملتا ہے اس سے زائد اسے کچھ مل سکتا ہی نہیں۔
اب بتائو اس قدر نقص جس خدا میں پیش کئے جاویں عقل سلیم ک اسے تسلیم کر نے کے لئے رضا مند ہو سکتی ہے۔ اسی طرح پر جس قدر مذاہب باطلہ دنیا میں موجود ہیں الحمد للہ کا جملہ خدا تعالیٰ کے متعلق ان کے کل غلط اور بے ہودہ خیالات و معتقدات کی تردید کرتا ہے۔
پھراس کے بعد رب العالمین کا لفظ ہے جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہے اللہ وہ ذات جمیع صفات کاملہ ہے جو تمام نقائص سے منزہ ہو اور حسن و احسان کے اعلی نکتہ تک پہنچا ہو اہو تاکہ اس بے مثل و مانند ذات کی طرف لوگ کھینچے جائیں۔ اور روہ کے جوش اور کشش سے اس کی عبادت کریں۔اس لئے پہلی خوبی احسان کی صفت رب العالمین کے اظہار سے ظاہر فرمائی ہے جس کے ذریعہ کل مخلوق فیض ربوبیت سے فائدہ اٹھا رہی ہے مگر اس کے بالمقابل باقی سب مذہبوں نے جو اس وقت موجود ہیں اس کا بھی انکار کیا ہے مثلاً آریہ جیسا کہ ابھی بیان کیا ہے یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ انسان کو جو کچھ مل رہا ہے وہ سب اس کے اپنے ہی اعمال کا نتیجہ ہے اور خدا کی ربوبیت سے وہ ہرگز ہرگز بہرہ ور نہیں ہے کیونکہ جب وہ اپنی روحوں کا خالق ہی خدا کو نہیں مانتے اور ان کو اپنے بقا ء و قیام میں بالکل غیر محتاج سمجھتے ہیں تو پھر اس صفت ربوبیت کا بھی انکار کرنا پڑا۔