اور مخلوق ہے جو مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہوئی ہے اور کالجوں میں اس کی تربیت ہوئی۔وہ خدا تعالیٰ کے کلام کی بجائے فلسفہ اور طبیعیات کی قدر کرتی ہے اور اس کو مقدم اور ضروری سمجھتی ہے اسلام اس کے نزدیک عر ب کے جنگلوں کے حسب حال تھا۔ان باتوں اور حالتوں کو جب میں دیکھتا ہوں اور سنتا ہوں‘ میں دوسروں کی بابت کچھ نہیں کہہ سکتا‘مگر میرے دل پر سخت صدمہ ہوتا ہے کہ آج اسلام ان مشکلات اور آفتوں میں پھنسا ہوا ہے اور مسلمانوں کی اولاد کی یہ حالت ہو رہی ہے جو وہ اسلام کو اپنے مذاق ہی کے خلاف سمجھتے ہیں۔ تیسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو الٰہی حدود سے باہر تو نہیں ہوئے۔حلال کو حرام نہیں کرتے مگر وضع قطع لباس پسند کرتے ہیں انہوں نے ایک قدم نصرانیت میں رکھا ہوا ہے اب صاف سمجھ آتا ہے کہ اندرونی طور پر وہ بدعات اور مشرکانہ رسوم ہیں اور بیرونی طور پر یہ آفتیں۔خصوصاً صلیبی مذہب نے جو نقصان پہنچایا ہے اسلام وہ مذہب تھا کہ اگر ایک آدمی بھی اس سے نکل جاتا اور مرتد ہو جاتا تو قیامت برپا ہو جاتی اور یا اب یہ حالت ہے کہ مرتدوں کی انتہا ہی نہیں رہی۔ خدا تعالیٰ کی خاص تجلّی کی ضرورت اب ان تمام امور کو یکجا ئی طور پر کوئی عقلمند سوچے اور خدا کے لئے غور کرے کہ کیا خدا کی خا ص تجلی کی ضرورت نہیں ؟کیا ابھی تک خداتعالیٰ کے اس وعدہ حفاظت کے پورا ہونے کا وقت نہیںآیاکہ انانحن نزلنا الذکروانالہ لحفظوں ( الحجر : ۱۰ اگر اس وقت اسکی مدد اورتجلی کی ضرورت نہیں تو کوئی ہمیں بتائے کہ وقت کب آئے گا ۔ غور کرو اور سوچو کہ ایک طرف تو واقعات یہ ظاہر کرتے ہیں ک اس قسم کی ضرورتین پیدا ہو گئی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی خاص تجلی فرمائے اور اپنے دین کی نصرت عملی سچائی اور آسمانی تائیدات سے کر کہ دکھا وے دوسری طرف صدی نے مہر لگا دی ہے کے اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کے موافق ( جو اس کے برگزیدہ اور افضل الرسل خاتم الا نبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر جاری ہو اکہ ہر صدی کے سر پر تجدیددین کے لیے مجدد بناکر بھیجا جاوے گا) کوئی مجدد آناچاہئیے ۔ صدی میں سے انیس برس گذر گئے مگر اب تک باوجود ان ضرورتوں کے پیدا ہوجانے کے بھی کوئی مامور مبعوث نہیں ہو اتو پھر خدا کے لیے غور کرو کہ ا س میں اسلام کا کیا باقی رہتا ہے ؟کیا اس سے انالحفظون کے وعدہ خلاف ثابت نہ ہوگا ؟ کی اس سے ارسال مجدد کی پیشگوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم باطل نہ ہوگئی ؟ کیا یہ نہ پایا جائے گا ۔ کہ اسلام ایسا مذہب ہے کہ اس پر آفتیں آئیں اور خدا تعالیٰ کو اس کے لیے غیرت نہ آئی ۔