ملفوظات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ٭(۳۱؍اکست ۱۹۰۱ء؁ کو جناب بابو غلام مصطفیٰ صاحب میونسپل کمشنر وزیر آباد‘قادیان دارالامن آئے تھے اس تقریب پر حضرج حجۃاﷲعلی الارض علیہ السلام نے بطور تبلیغ مندرجہ ذیل تقریر فرمائی۔جو الحکم کی اس اور اگلی اشاعتوں میں درج ہوتی ہے۔وباﷲالتوفیق وھوخیر الرفیق۔ایڈیٹر) نئی بات سنتے ہی اس کی مخالفت نہ کریں اصل بات یہ ہے کہ جب تک انسان کسی بات کو خالی الذہن ہو کر نہیں سوچتا اور تمام پہلوئوں پر توجہ نہیں کرتا اور غور سے نہیں سنتا اس وقت تک پرانے خیالات نہیں چھوڑ سکتا اس لئے جب آدمی کسی نہی بات کو سنے تو اسے یہ نہیں چاہئیے کہ سنتے ہی اس کی مخالفت کے لئے تیار ہو جاوے بلکہ اس کا فرض ہے کہ اس کے سارے پہلوئوں پر پورا فکر کرے اور انصاف اور دیانت اور سب سے بڑھ کر خدا تعالیٰ کے خوف کو مد نظر رکھ کر تنہائی میں اس پر سوچے۔میں جو کثھ اس وقت کہنا چاہتا ہوں وہ کوئی معمولی اور سرسری نگاہ سے دیکھنے کے قابل بات نہیں بلکہ بہت بڑی اور عظیم الشان بات ہے میری اپنی بنائی ہوئی نہیں بلکہ خد اتعالیٰ کی بات ہے اس لئے جو اس کی تکذیب کے لئے جراب اور دلیری کرتا ہے وہ میری تکذیب نہیں کرتا بلکہ اﷲ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کرتا ہے اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب پر دلیر ہوتا ہے مجھے اس کی تکذیب سے کوئی رنج نہیں ہو سکتا البتہ اس پر رحم ضرور آتا ہے کہ نادان اپنی نادانی سے خدا کے غضب کو بھڑ کاتا ہے۔ ہر صدی کے سر پر مجدّ دکا ظہور یہ بات مسلمانوں میں ہر شخص جانتا ہے اور غالباً کسی کو بھی اس سے بے خبری نہ ہوگی کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ال تعالیٰ ہر صدی کے سر پر ایک مجدد کو بھیجتا ہے