جو دین کے اس حصہ کو تازہ کرتا ہے جس پر کوئی آفت آئی ہوجی ہوتی ہے یہ سلسلہ مجددوں کے بھیجنے کا اﷲ تعالیٰ کے اس وعدہ کے موافق ہے جو اس نے انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون (الحجر : ۱۰) میں فرمایا ہے پس اس وعدہ کے موافک اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشگوئی کے موافق جو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اﷲ تعالیٰ سے وحی پا کر فرمائی تھی یہ ضروری ہوا کہ اس صدی کے سر پر جس میں سے انیس برس گذر گئے کوئی مجدداصلاح دین اور تجدید ملت کے لئے مبعوث ہوتا اس سے پہلے کہ کوئی خدا تعالیٰ کا مامور اس کے الہام اور وحی سے مطلع ہو کر اپنے آپ کو ظاہر کرتا ۔مستعد اور سعید فطرتوں کے لئے ضروری تھا کہ وہ صدی کے سر آجانے پر نہایت اضطراب اور بے قراری کے ساتھ اس مرد آسمانی کی تلاش کرتے اور اس آواز کو سننے کے لئے ہمہ تن گوش ہو جاتے جو انہیں یہ مژدہ سناتی کہ میں خا تعالیٰ کی طرف سے وعدہ کے موافق آیا ہوں۔ چودھوی صدی کا مجدّد یہ سچ ہے کہ چودھویں صدی پر اکابر امت کی نظریں لگی ہوئی تھیں اور تمام کشوف ارو رؤیا اور الہامات اس امر کی طرف ایما کرتے تھے کہ اس صدی پر آنے والا موعود عظیم الشان انسان ہو گا جس کانام احادیث میں مسیح موعود اور مہدی آیا ہے مگر میں کہوں گا کہ جب وہ وقت آگیا اور آنے والا آگیا تو بہت تھوڑے وہ لوگ نکلے جنہوں نے اس کی آواز کو سنا غرض یہ بات کوئی نرالی اور نئی نہیں ہے کہ ہر صدی کے سر پر ایک مجد د آتا ہے پس اس وعدہ کے موافق ضوری تھا کہ اس صدی میں بھی جو انیس سال تک گذر چکی ہے مجدد آئے اب اس دوسرے پہلو کو دیکھنا بھی ضوری ہے کہ کیا اس وقت اسلام کے لئے کوئی آفات اور مشکلات ایسی پیدا ہوگئی ہیں جو کسی مامور کے لئے داعی ہیں جب ہم اس پہلو پر غور کرتے ہیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ اسلام پر اس وقت دو قسم کی آفتیں آئی ہیں۔اندرونی اور بیرونی۔ اسلام کی اندرونی حالت اندرونی طور پر یہ حالت اسلام کی ہو گئی ہے کہ بہت سی بدعتیں اور شرک سچی توحید کی بجائے پیدا ہوگئے ہیں اعمعال صالحہ کی جگہ صرف چند رسومات نے لے لی ہے قبر پرستی اور پیرپرستی اس حدتک پہنچ گئے ہے کہ وہ بجائے خود ایک مستقل شریعت ہو گئے ہے مجھ کو ہمیشہ تعجب اور حیرت ہوتی ہے کہ مجبھ کو یہ لوگ کہتے ہیں کہ میں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے حالانکہ اس امر کو انہوں نے نہیں سمجھا کہ