میں نکل آئے ہیں۔اور یہ ضروری امر ہے کہ ان کا مقابلہ ہو۔اور ان میں ایک ہی سچا ہوگا اور غالب آئے گا۔ لیظھر ہ علے الدین کلہ (الصف : ۱۰) کی طرف اشارہ کرتا ہے۔یہ مقابلہ مذاہب کا شروع ہو گیا ہے۔اور اس مذہبی کُشتی سلسلہ نری زبان تک ہی نہیں رہا،بلکہ قلم نے اس میں سے سب سے بڑھ کر حصہ لیا ہے۔لاکھوں نذہبی رسالے شائع ہو رہے ہین۔اس وقت مختلف مذاہب خصوصاً نصاریٰ کے جو حملے اسلام پر ہو رہے ہیں۔جو شخص ان حالات سے واقفیت رکھتا ہے اور اسے ان پر سوچنے کا موقع ملا ہے تو وہ ان ضرورتوں کو دیکھ کر بے اختیار ہو کر اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ یہ وقت ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے اسلام کی طرف زیادہ توجہ کرے۔جو شخص اسلام پر ان حملوں کی رفتار کو دیکھتا ہے،تو وہ اس صرورت کو محسوس کرتا ہے،لیکن جس کو کوئی خبر ہی نہیں ہے وہ ان نقصانوں کی بابت کیا کہہ سکتا ہے جو اسلام کو پہنچائے گئے ہیں۔مسلمانوں نے نادن دوست کے رنگ میں اور غیر مذاہب والوں خصوصاً عیسائیوں نے دشمنی کے لباس میں ،وہ تو یہی کہتا ہے کہ اسلام کا کیا بگڑا ہے؟ مگر اسے معلوم نہیں کہ اسلام کی ظاہری ارو جسمانی صورت میں بھی ضعف آگیا ہے۔وہ قوت اور شوکت اسلامی سلطنت کو نہیں ۔اور دینی طور پر یہی وہ بات جو مخلصین لہ الدین (البینۃ : ۶) میںسکھائی گئی تھی اس کا نمونہ نظر نہیں آتا ہے۔ اندرونی طور پر اسلام کی حالت بہت ضعیف ہو گئے ہے اور بیرونی حملہ آور چاہتے ہیں کہ اسلام کو نابود کر دیں۔اُن کے نزدیک مسلمان کُتوں اور خنزیروں سے بدتر ہیں۔ان کی غرض اور ارادے یہی ہیں کہ وہ اسلام کو تباہ کر دیں اور مسلامنوں کو ہلاک کریں۔اگر ایک سچے مسلمان کو ان ارادوں پر اطلاع ملے جو یہ لوگ اسلام کے خلاف کہتے ہیں تو میں سچ کہتا ہوں کہ وہ ان کے تصور کے صدمہ ہی سے مر جاوے۔اب خدا کی کتاب کے بغیر اور اس کی تائید اور روشن نشانوں کے سوا اُن کا مقابلہ ممکن نہیں۔اور اسی غرض کے لیے خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے۔ عیسائیت کا فتنہ ہی دجال کا فتنہ ہے دجال بھی کتاب ہی کا پیرو ہونا چاہیے؛ورنہ دجل کیا کیا۔یہ تحریف کرتے ہیں۔پہلے حاشیہ پر لکھتے ہیں پھر ان مطالب کو متن میں داخل کرتے ہیں اور اس طرح پر آئے دن ان کی تحریف کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔دنیا کی کوئی زبان ایسی نہیں۔جس میں انہوں نے انجیل کا ترجمہ نہیں کیا۔اور اپنے باطل عقیدوں کی اشاعت نہیں کی۔انہوں نے اپنی تحریروں اور رسالوں کے ذریعہ بہت بڑی خباثت اور گند کو پھیلا ہے۔ان کی تیّتیں اسلام کے للیے ہرگز بخیر نہیں ہیں۔آدم سے لیکر اس وقت تک ایسے مغوی اور مضل پیدا نہیں ہوئے۔جیسی کہ یہ قوم ہے۔روپیہ۔قوت۔شوکت جو آج ان کو ملا ہے اور کسی کو نہیں۔میں پوچھتا ہوں کہ یہ قوم اسلام کے معدوم کرنے