کہ محمدؐ مرد تھا کہ یا عورت تھی۔جب اس کو بتایا گیا کہ وہ مرد تھا،تو وہ حیرت زدہ ہو کر کہنے لگی۔کہ پھر کیا میں اتنی عمر تک بیگانے مرد ہی کا نام لیتی رہی؟
یہ حالت مسلمانوں کی ہوگئی ہے۔؎ٰ
مولانا مولوی سید محمد احسن صاحب فاضل امر وہی نے جب حضرج حجۃاﷲ تقریر ختم کر چکے تو مستفسر کو مخاطب کر کے فرمایا کہ صاحب سفر السعادت نے تو یہانتک لکھا ہے کہ نماز کے بعد دعا کی حدیث ثابت نہیں۔
حدیث پر میرا مذہب اس پر پھر حضرت اقدس نے سلسلہ کلام یوں شروع کیا کہ :
میرا مذہب یہ ہے کہ حدیث کی بڑی تعظیم کرنی چاہیے،کیونکہ یہ آنحضرت ؐ سے منسوب ہے۔جبتک قرآن شریف سے متعارض نہ ہو۔تو مستحن یہی ہے کہ ا س پر عمل کیا جاوے،مگر نما زکے بعد دعا کے متعلق حدیث سے التزام ثابت نہیں۔ہمارا تو یہ اصول ہے کہ ضعیف سے ضعیف حدیث پر بھی عمل کیا جاوے۔جو قرآن شریف کے مخالف نہ ہو۔
اس کے بعد دو تین آدمیون نے بیعت کی درجواست کی اور آپ نے بیعت میں داخل کیا۔
مسٹر پگٹ
مولانا مولوی محمد علی صاحب۔ایم ۔اے نے مسٹر پگٹ اور فرانس کے ایک جدید مدعئی مسیحیت کے متعلق ولایت کے اخبار فری تھنکر سے دو نوٹ پڑھ کر سنائے۔اور مفتی محمد صادق صاحب نے ڈاکٹر ڈوئی کے اخبار کے بعض پیراگراف سنائے :
خان الیگزینڈر ڈوئی ڈوئی کے ذکر پر حضرت اقدس ؑ نے فرمایا کہ :
یہ وہ شخص ہے جس نے الیاس ہونے کا دعویٰ کا ہے۔اور اپنے آپ کو عہد نامہ کا رسول کہتا ہے۔ہم نے اس کو دعوت کی ہے کہ اگر تو یسوع مسیح کو خد اسمجھتا ہے تو میں سچ کہتا ہوں کہ میں خدا کی طرف سے مسیح موعود ہو کر آیا ہوں۔پس تو اس قسم کی دعا کر کہ ہم دونوں میں سے جو کاذب ہے وہپہلے ہلاک ہو۔یہ جوش مجھے زیادہ اس لیے آیا ہے کہ اس نے تمام مسلمانوں کے ہلاک ہونے کی پیشگوئی کی ہے۔یہ شخص اسلام کا بڑا دشمن ہے۔
یہ زمانہ اس قسم کا آیا ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اسیے وسائل پیدا کر دیئے ہیں۔کہ دنیا ایک سہر کا حکم رکھتی ہے۔اور
واذا النفوس زوجت (التکویر : ۸)
کی پیشگوئی پوری ہو گئے ہے۔اب سب مذاہب میدان