میں کس قدر کوشش کرتی ہے۔اور کیا کیا طریقے انہوں ین اختیار کئے ہیں؟ اور اپنے ارادوں اور کوششوں میں کہاں تک کامیابی اس نے حاصل کی ہے؟ اب اس سوال کا جواب سوچ کر ہمیں بتائے کہ جب یہ عظیم السان فتنہ اور اسلام کے لیے دشمن ہے تو پھر اس کی پیشگوئی پھی تو ضرور ہونی چاہیے تھی۔پھر وہ کہاں ہے؟ قرآن شریف میں ولا الضالین تو کہا۔اگر دجال کوئی الگ چیز تھی تو چاہیے تھا ولاالدجال بھی کہا ہوتا۔غیرالمغضوب اور ولاالضالین کے متعلق تمام مفسر متفق ہیں کہ ان سے یہودی اور عیسائی مراد ہیں۔جب پانچ وقت نمازوں میں ان فتنوں سے بچنے کے لیے دعا کی تعلیم کی گئے ہے کہ الضالین سے نہ کرنا ۔اور نہ مغضوب قوم میں سے بنانا تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ سب سے بڑا اور اہم فتنہ یہی تھا۔جو ام الفتن کہنا چاہیے۔ مسیح موعود کا زمانہ چودھویں صدی ثابت ہوتاہے اور باتوں کو جانے دو۔واقعات بھی تو کچھ چیز ہیں۔متشابہات کی بحث میں نہ پڑو۔مگر یہ تو ماننا ہی پڑے گا کہ پیشگوئیوں کے وہ معنے ہوتے ہیں جو واقعات کی رو سے صحیح ثابت ہو جائیں۔اب تیرہ سو برس گزر گئے اور محدثین کا اس پر اتفاق ہو گیا ہے کہ کوئی کشف اور الہام چودھویں صدی سے آگے نہیں جاتا۔سب گویا بالاتفاق یہی مانتے ہیں۔کہ مسیخ موعود کا زمانہ چودھویں صدی سے آگے نہیں۔خود عیسائی قوموں میں مسیح موعود کی بعثت کا وقت یہی سمجھا اور مانا جاتا ہے اور ضوریاتِ مشہودہ محسوسہ بھی اسی پر دلالت کرتی ہیں کہ آنے والے کے لیے یہی وقت ہے۔وہ علامات اور نشانات جو مقرر کئے گئے تھے۔سب اپنے اپنے وقت پر پورے ہو گئے۔یاجوج ماجوج بھی من کل حدب ینسلون (الانبیاء : ۹۷) کا نظارہ دکھارہے ہیں اور دجال بھی اپنے دجل اور فریب سے ایک عالم کو ہلاک کر رہا ہے۔مگر فرضی دجال جو مسلمانوں کے تخیّل میں ہے۔اس کا ابھی نام و نشان نہیں۔ پھر عجیب بات یہ ہے کہ قرآن شریف میں تو لکھا ہوا ہے کہ : وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفرو االی یوم القیا مۃ (آل عمران : ۵۶) واغرینا بینہم العدا وۃ والبغضاء الی یوم القیا مۃ (المائدہ : ۱۵) والقیئنا بینہم العداوۃ والبغضاء (المائدہ : ۶۵) یعنی قیامت تک عیسائیوں کا وجود پایا جاتا ہے۔لیکن یہ کہتے ہیں کہ مسیح موعود آکر عیسائیوں سے لڑائی کرے گا۔میں کہتا ہوں کہ پھر وہ دجال کہاں گیا۔جس کی بابت کہتے ہیں کہ حرمین کے سوا اس کا دخل ساری جگہ