فاضلہ کو ملحوظ رکھنا بہت ہی مشکل ہے اور پھر ایسی مؤثر اور جاذب تعلیم دینا جو صفات رذیلہ کو دور کرکے بھی دکھا دے اور ان کی جگہ اعلی درجہ کی خوبیاں پیدا کر دے عربوں کی جو حالت تھی وہ کسی سے پوشیدہ نہیں وہ سارے عیبوں اور برائیوں کو مجموعہ بنے ہوئے تھے اور صدیوںسے ان کی یہ حالت بگڑی ہوئی تھی مگر کس قدر آپ کے فیوضات اور اور برکات میں قوت تھی کہ تئیس برس کے اندر کل ملک کی کایا پلٹ دی۔
ایک چھوٹی سے چھوٹی سورت بھی قرآن کی لے کر دیکھی جاوے تو معلوم ہو گا کہ اس میں فصاحت و بلاغت کے مراتب کے علاوہ تعلیم کی ذاتی خوبیوں اور کمالات کوا س میں بھر دیا ہے ۔ سورۂ اخلاص ہی کو دیکھو کہ توحید کے کل مراتب کو بیان فرمایا ہے اس میں ہر قسم کے شرکوں کا رد کر دیا ہے ۔ اسی طرح سورۂ فاتحہ کو دیکھو کہ کس قدر اعجاز ہے چھوٹی سی سورۃ جس کی سات آیتیں ہیں لیکن دراصل سارے قرآن شریف کا فن اور خلاصہ اور فہرست ہے۔اور پھر اس میں خدا تعالٰیکی ہستی ، اس کی صفات ,دعا کی ضرورت اس کی قبولیت کے اسبا ب اور ذرائع ، مفید سود مند دعائوں کا طریق ، نقصان رساں راہوں سے بچنے کی ہدایت سکھلائی ہے ، وہاں دنیا کے کل مذاہب باطلہ کا رد اس میں موجود ہے۔
اکثر کتابوں اور اہل مذہب کو دیکھو گے کہ وہ دوسرے مذہب کی برائیاں اور نقص بیان کرتے ہیں اور دوسری تعلیموں پر نکتہ چینی کرتے ہیں، مگر ان نکتہ چینیوں کو پیش کرتے ہوئے کوئی اہل مذہب نہیں کرتا کہ اس کے بالمقابل کوئی عمدہ تعلیم بھی پیش کرے اور دکھائے کہ اگر میں فلاں بری بات کرتا سے بچانا چاہتا ہوں تو اس کی بجائے یہ اچھی تعلیم دیتا ہوں یہ کسی مذہب میں نہیںیہ فخر قرآن شریف ہی کو ہے کہ جہاں وہ دوسرے مذاہب باطلہ کا رد کرتا ہے اور ان کی غلط تعلیموں کو کھولتا ہے وہاں اصلی اور حقیقی تعلیم بھی پیش کرتا ہے جس کا نمونہ اس سورۃ فاتحہ میں دکھایا ہے کہ ایک ایک لفظ مذاہب باطلہ کی تردید کر رہا ہے ۔
مثلاًفرمایا:الحمد للہ ساری تعریفیں خواہ و ہ کسی قسم کی ہوں وہ اللہ تعالٰیہی کے لئے سزا وار ہیں اب س لفظ کو کہہ کر ثابت کیا کہ قرآن شریف جس خدا کو منوانا چاہتا ہے وہ تمام نقائص سے منزہ اور تمام صفات کاملہ سے موصوف ہے کیونکہ اللہ کا لفظ اس ہستی پر بولا جاتا ہے جس میں کوئی نقص ہو ہی نہیں۔ اور کمال دو قسم کے ہوتے ہیں یا بلحاظ حسن کے یا بلحاظ احسان کے پس دونوں قسم کے کمال اس لفظ میں پائے جاتے ہیں ۔ دوسری قوموں نے جو لفظ خدا تعالیٰ کے لئے تجویز کئے ہیں وہ ایسے جامع نہیں ہیں او ریہ لفظ اللہ کا دوسرے باطل مذاہب کے معبودوں کی ہستی اور ان کی صفات کے مسئلہ کی پوری طرح تردید کرتا ہے مثلاً عیسائیوں کو لو ۔ وہ جس اللہ کو مانتے ہیں وہ ایک عاجز ضعیف عورت کا بچہ ہے جس کا نام یسوع ہے جو معمولی بچوں کی طرح دکھ درد کے ساتھ ماں کے پیٹ سے نکلا اور عوارض میں مبتلاء رہا ۔ بھوک پیاس کی تکلیف سے سخت بے چین رہا ار سخت تکلیفیں اور دکھ اسے اٹھانے پڑے