سے الہامات اور ماکالمات ہوتے ہیں۔یہ دعائوں کے قبول ہونے کا ایک ذریعہ ہے۔لیکن اگر کوئی اس کو اچھی طرح سمجھ کر ادا نہیں کرتا ۔تو وہ رسم اور عادت کا پابند ہے اور اس سے پیار کرتا ہے۔جیسے ہندو گنگا سے پیار کرتے ہیں۔ہم دعائوں سے انکار نہیں کرتے۔بلکہ ہمارا تو سب سے بڑھ کر دعائوں کی قبولیت پر ایمان ہے جبکہ خدا تعالیٰ نے
ادعونی استجب لکم (المومن : ۶۱)
فرمایا ہے۔ہاں یہ سچ ہے کہ خدا تعالیٰ نے نماز کے بعد دعا کرنا فرض نہیں ٹھہرایا۔اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی التزامی طور پر مسنون نہیں ہے۔آپ سے التزام ثابت نہیں ہے۔اگر التزام ہوتا اور پھر کوئی ترک کرتا تو یہ معصیت ہوتی۔تقاضائے وقت پر آپ نے خارج نماز میں بھی دعا کر لی۔اور ہمارا تو یہ ایمان ہے کہ آپؐ کا سارا ہی وقت دعائوں میں گزرتا تھا۔لیکن نماز خاص خعینہ دعائوں کا ہے جو مومن کو دیا گیا ہے۔اس لیے اس کا فرض یہ کہ جبتک اس کو درست نہ کر یاور اس کی طرف توجہ نہ کرے۔کیونکہ جب نفل سے فرض جاتا رہے تو فرض کو مقدم کرنا چاہیے۔اگر کوئی شخص ذوق اور حضور قلب کے ساتھ نما زپڑھتا ہے تو پھر جارج نماز بے شک دعائیں کرے ہم منع نہیں کرتے۔ہم تقدیم نما زکی چاہتے ہیں اور یہی ہماری غرض یہ۔مگر لوگ آج کل نماز کی قدر نہیں کرتے۔اور یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ سے بہت بُعد ہو گیا۔مومن کے لیے نماز معراج ہے اور وہ اس سے ہی اطمینان قلب پاتا ہے،کیونکہ نماز میں اﷲ تعالیٰ کی حمد اور اپنی عبودیت کا اکرار،استغھار،رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم علیہ وسلم پر درود ۔غرض وہ سب امرو جو روحانی ترقی کے لیے ضروری ہیں۔موجود ہیں۔ہمارے دل میں اس کے متعلق بہت سی باتیں ہیں۔جن کو الفاظ پورے طور پر ادا نہیں کر سکتے۔بعض سمجھ لیتے ہیں اور بعض رہ جاتے ہیں۔مگر ہمارا کام یہ ہے کہ ہم تھکتے نہیں۔کہتے جاتے ہیں۔جو سعید ہوتے ہیں اور جن کو فراست دی گئے ہے وہ سمجھ لیتے ہیں۔
عربی کی بجائے اپنی زبان میں نما زپڑھنا درست نہیں
سائل : ایک شخص نے رسالہ لکھا تھا کہ ساری نما زاپنی ہی زبان میں پڑھنی چاہیے۔
حضرت اقدسؑ: وہ اور طریق ہوگا۔جس سے ہم متفق نہین۔قرآن شریف بابرکت کتاب ہے اور رب جلیل کا کلام ہے۔اس کو چھوڑنا نہیں چاہیے۔ہم نے تو ان لوگوں کے لیے دعائوں کے واسطے کہا یہ،جو اُمّی ہیں۔اور پورے طور پر اپنے مقاصد عرض نہیں کرسکتے ان کو چاہیے۔کہ اپنی زبان میں دعا کر لیں۔ان لوگوں کی حالت تو یہانتک پہنچی ہوئی ہے۔کہ مجھے معلوم ہے کہ فتح محمد ایک شخص تھا۔اس کی چچی بہت بڈھی ہو گئے تھی۔اس نے کلمہ کے معنے پوچھے تو اس کو کیا معلوم تھا کہ کیا ہیں۔اس نے بتائے تو اس عورت نے پوچھا