اور پنجابی یکساں ہی ہیں۔مگر مادری زبان کے ساتھ انسان کو ایک ذوق ہوتا ہے۔اس لیے اپنی زبان میں نہایت خشوع اور خضوع کے ساتھ اپنے مطالب اور مقاصد کو بارگاہ رب العزۃ میں عرض کرنا چاہیے۔میں نے بارہا سمجھایا ہے کہ نما زکا تعہد کرو۔جس سے حضور اور ذوق پیدا ہو۔فریضہ تو جامعت کے ساتھ پڑھ لیتے ہیں۔باقی نوافل اور سُنن کو جیسا چاہو طُول دو۔اور چاہیے کہ اس میں گریہ وبکا ہو،تاکہ وہ حالت پیدا ہو جاوے جو نماز کا اصل مطلب ہے۔نماز ایسی شے ہے کہ سیّئات کو دور کر دیتی ہے۔جیسے فرمایا :
ان الحسنا ت یذھبن السیئات (ھود : ۱۱۵)
نماز کل بدیوں کو دور کر دیتی ہے۔حسنات سے مراد نما زہے،مگر آج کل یہ حالت ہو رہی ہے کہ عام طور پر نمازی کو مکار سمجھا اجتا ہے،کیونکہ عام لوگ بھی جانتے ہیں کہ یہ لوگ جو نماز پڑھتے ہیں۔یہ اسی قسم کی ہے جس پر خدا نے واویلا کیا ہے،کیونکہ اس کا کوئی نیک اثر اور نیک نتیجہ مترتب نہین ہوتا۔نرے الفاظ کی بحث میں پسند نہین کرتا۔آخر مر کر خدا تعالیٰ کے حصور جانا ہے۔دیکھو ایک مریض جو طبیب کے پا سجات اہے اور اس کا نسخہ استعمال کرتا ہے۔اگر دس بیس دن تک اس سے کوئی فائدہ نہ ہو تو وہ سمجھتا ہے۔کہ تشخیص یا علاج میں کوئی غلطی ہے۔پھر یہ کیا اندھیر ہے کہ سالہا سال سے نامزیں پڑھتے ہیں۔اور اس کا کوئی اثر محسوس اور مشہور نہیں ہوتا۔میرا تو یہ مذہب ہے کہ اگر دس دن بھی نما زکو سنوار کر پڑھیں تو تنویر قلب ہو جاتی ہے۔مگر یہان تو پچاس پچاس برس تک نما زپڑھنے والے دیکھے گئے ہیں کہ بدستور روبدنیا اور سفلی زندگی میں نگونسار ہیں۔ارو انہیں نہین معلوم کہ وہ نماوزں میں کیا پرھتے ہیں اور استغفار کیا چیز ہے۔اس کے معنوں پر بھی انہیں اطلاع نہیں ہے۔طبیعتیں دو قسم کی ہیں۔ایک وہ جو عادت پسند ہوتی ہیں۔جیسے اگر ہندو کا کسی مسلام کے ساتھ کپڑا بھی چھو جائے تو وہ اپنا کھانا پھینک دیتا ہے؛حالانکہ اس کھانے میں مسلمان کا کوئی اثر سرایت نہیں کر گیا۔زیادہ تر اس زمانہ میں لوگوں کا یہی حال ہو رہا ہے کہ عادت اور رسم کے پابند ہیں۔اور حقیقت سے واقف اور آشنا نہیں ہیں۔جو شخص دل میں یہ خیال کرے کہ یہ بدعت ہے کہ نماز کے پیچھے دعا نہین مانگتے بلکہ نمازوں میں دعائیں کرتے ہیں۔یہ بدعت نہیں۔پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ادعیہ عربی میں سکھائی تھیں جو اُن لوگوں کی اپنی مادری زبان تھی اسی لیے ان کی ترقیات جلدی ہوئیں۔لیکن جب دوسرے ممالک میں اسلام پھیلا تو وہ ترقی نہ رہی۔اس کی یہی وجہ تھی کہ اعمال رسم و عادت کے طور پر رہ گئے۔ان کے نیچے جو حقیقت اور مغرز تھا وہ نکل گیا۔اب دیکھ لو مثلاً ایک افغان نماز تو پڑھتا ہے،لیکن وہ اثر نماز سے بالکل بے خبر ہے۔یاد رکھو رسم اور چیز ہے اور صلوٰۃ اور چیز صلوٰۃ ایسی چیز ہے کہ اس سے بڑھ کر اﷲ تعالیٰ کے قرب کا کوئو قریب ذریعہ نہیں ۔یہ قرب کی کنجی ہے۔اسی سے کشوف ہوتے ہیں۔اسی