سے اُن کو سرور اور ذوق حاصل ہو۔عام طور پر یہ حالب ہو رہی ہے کہ نماز کو ایسے طور سے پڑھتے ہیں کہ جس میں حضور قلب کی کوشش نہیں کی جاتی،بلکہ جلدی جلدی اس کو ختم کیا جاتا ہے اور خارج نماز میں بہت کچھ دعا کے لیے کرتے ہیں اور دیر تک دعا مانگتے رہتے ہیں؛حالانکہ نماز کا (جو مومن کی معراج ہے) مقصود یہی ہے کہ اس میں دعا کی جاوے اور اسی لیے ام الادعیہ،اھدناالصراط المستقیم دعا مانگی جاتی ہے۔انسان کبھی خدا تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں کرتا۔جبتک کہ اقام الصلوٰۃ نہ کرے۔اقیمواالصلوٰۃ اس لیے فرمایا کہ نماز گری پڑتی ہے مگر جو شخص اقام الصلوٰۃ کرتے ہیں۔تو وہ اس کی روحانی صورت سے فائدہ اٹھاتے ہیں تو پھر وہ دعا کی محویت میں ہو جاتے ہیں۔نماز ایک ایسا شربت ہے کہ جو ایک بار اُسے پی لے اُسے فرصت ہی نہیں ہوتی۔اور وہ فارغ ہی نہیں ہوتی۔اور وہ فارغ ہی نہیں ہوسکتا۔ہمیشہ اس سے سرشار اور مست رہتا ہے۔اس سے ایسی محویت ہوتی ہے کہ اگر ساری عمر میں ایک بار بھی ا سے چکھتا ہے تو پھر اس کا اثر نہیں جاتا۔
مومن کو ہمیشہ اُٹھتے بیٹھتے ہر وقت دعائیں کرنی چاہئیں۔مگر نماز کے بعد جو دعاؤںکا طریق اس ملک میں جاری ہے وہ عجیب ہے۔بعض مساجد میں اتنی لمبی دعائیں کی جاتی ہیں کہ آدھ میل کا سفر ایک آدمی کر سکتا ہے۔میں نے اپنی جماعت کو بہت نصیحت کی ہے کہ اپنی نماز کو سنوار و یہ بھی دعا ہے۔
کیا وجہ ہے کہ بعض لوگ تیس تیس برس تک برابر نامز پڑھتے ہیں۔پھر کورے کے کورے ہی رہتے ہیں۔کوئی اثر روحانیت اور خشوع وخضوع کا ان میں پیدا نہیں ہوتا۔اس کایہی سبب ہے کہ وہ بماز پڑھتے ہیں۔جس پر خدا تعالیٰ لعنت بھیجتا ہے ایسی نمازوں کے لیے ویل آیا ہے۔دیکھو جس کے پاس اعلیٰ درجہ کا جوہر ہو تو کیا کوڑیوں اور پیسوں کے لیے اسے پھینک دینا چاہیے۔ہرگز نہیں۔اول اس جوہر کی حفاظت کا اہتمام کرے اور پھر پیسوںکو بھی سنبھالے۔اس لیے نما زکو سنوار سنوار کر اور سمجھ سمجھ کر پڑھے۔
سائل : الحمد شریف بیشک دعا ہے مگر جن کو عربی کا علم نہیں ۔ان کو تو دعا مانگنی چاہیے۔
حضرت اقدس : ہم نے اپنی جماعت کو کہا ہوا ہے کہ طوطے کی طرح مت پڑھو۔سوائے قرآن شریف یک جو رب جلیل کا کالم ہے اور سوائے ادعیہ مثورہ کے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھیں۔نماز بابرکت نہ ہوگی جب تک اپنی زبان میں اپنے مطالب بیان نہ کرو۔اس لیے ہر شخص کو جو عربی زبان نیں جانتا۔ضروری ہے کہ اپنی زبان میں اپنی دعائوں کو پیش کرے اور رکوع میں سجود میں مسنون تسبیحوں کے بعد اپنی حاجات کو عرض کرے۔ایسا ہی التحیات میں اور قیام اور جلسہ میں۔اس لیے میری جماعت کے لوگ اس تعلیم کے موافق نما زکے اندر اپنی زبان میں دعائیں کر لیتے ہیں۔اور ہم بھی کر لیتے ہیں؛اگر چہ ہمیں تو عربی