جس شخص نے قرآن سریف کو پڑھا اور اس نے اتنا بھی نہین سمجھا کہ ہدایت آسمان س ےآتی ہے تو اس نے کیا سمجھا؟ الم یاتکم نذیر کا جب سوال ہوگا تو پتہ لگے گا۔اصل بات یہ ہے کہ ؎ خدا را بخدا تواں شناخت اور یہ ذریعہ بغیر امام نہیں مل سکتا۔کیونکہ وہخدا تعالیٰ کے تازہ بتازہ نسانوں کا مظہر اور اس کی تجلیات کا مورد ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ حدیث شریف میں آیا ہے من لم یعرف امام زمانہ فقد مات میتۃالجاھلیۃ۔ یعنی جس نے زمانہ کے امام کو شناخت نہیں کیا ۔وہ جہالت کی موت مر گیا۔؎ٰ ۱۴؍اکتوبر ۱۹۰۲ء؁ دربارِ شام دعا بعد نماز مولوی سید محمود شاہ صاحب نے جو سہار نپور سے تشریف لائے ہوئے ہیں۔حضرت اقدس امام علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حضور جب آپ نماز مغرب سے فارغ ہو کر شہ نشین پر اجلاس فرماہوئے ۔یہ عرض کیا کہ میں نے آج تحفہ گولڑویہ اور کشتی نوح کے بعض مقامات پڑھے ہیں۔میں ایک امر جناب سے دریافت کرنا چاہتا ہوں۔اگر چہ وہ فروعی ہے،لیکن پوچھنا چاہتا ہوں۔اور وہ یہ ہے کہ ہم لوگ عموماً بعد نماز دعا مانگتے ہیں،لیکن یہاں نوافل تو خیر دعا بعد نماز نہیں مانگتے۔اس پر حضرت اقدس ؑ نے فرمایا : اصل یہ ہے کہ ہم دعا مانگنے سے تو منع نہیں کرتے اور ہم خود بھی دعا مانگتے ہیں۔اور صلوٰۃ بجائے خودا دعا ہی ہے۔بات یہ ہے کہ میں نے اپنی جماعت کو نصیحت کی ہے۔کہ ہندو ستان میں یہ عام بدعت پھیلی ہوتی ہے کہ تعید مل ارکان پورے طور پر ملحوظ نہیں رکھتے اور ٹھونگے دار نماز پڑھتے ہیں۔گویا وہ نماز ایک ٹیکس ہے جس کا ادا کرنا ایک بوجھ ہے۔اس لیے اس طریق سے ادا کیا جاتا ہے،جس میں کراہت پائی جاتی ہے؛حالانکہ نماز ایسی سے ہے کہ جس سے ایک ذوق،اُنس اور سرور بڑھتا ہے۔مگر جس طریق پر نماز ادا کی جاتی ہے اس سے حضور قلب نہیں ہوتا اور بے ذوقی اور بے ذوقی اور بے لطفی پیدا ہوتی ہے۔میں نے اپنی جماعت کو یہی نصیحت کی ہے کہ وہ بے ذوقی اور بے حضور پیدا کرنے والی نماز نہ پڑھیں،بلکہ حضورِ قلب کی کوشش کریں جس