یقینا یاد رکھو کہ اس مرض اور علاج سے یہ لوگ محض ناواقف ہیں۔اس کو وہی شناخت کرتا ہے جس کو خد اتاعالیٰ نے اسی غرض کے لیے بھیجا ہے اور وہ میں ہوں۔ اصلاح احوال کے لیے آسمانی تدابیر کی ضرورت اسلام کے اندر ایک خطرناک پھوڑا ہو گیا ہے اور یاک جذام باہر کی طرف سے ا۲سے لگ رہا ہے۔اندرونی پھوڑے کا باعث خود مسلمان ہوئے جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک تعلیمات اور اُسوہ حسنہ کو چھوڑ کر اپنی تجویز اور رائے کے موافق اس میں اصلاح اور ترمیم شروع کر دی۔وہ باتیں جو کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وہم وگمان میں بھی نہ آئی تھیں آج عبادت قرار دی گئے ہیں اور زہد و ریاضت کا بہت بڑا مدار انہیں پر رکھا گیا ہے۔ان باتوں کو دیکھ کر بیرونی دشمنو ںکو بھی موقع ملا اور وہ تیروتفنگ لے کر اسلام پر حملہ آور ہوئے اور اس کے پاک وجود کو چھلنی کر دیا اور اسے ایسی مکروہ ہیئت میں دشمنوں نے دکھانا شروع کر دیا کہ غیر تو غیر تھے ہی اپنوں کو بھی متنفر کر دیا۔ہر شخص نے اپنی طرز پر اس کی تصویر کو بھیانک بنانے کی فکر کی۔ایسی صورت میں زمینی حربہ اور ارضی تدابیر کام نہیں دے سکتی ہیں۔اس کے لیے ائسمانی حربہ ارو آسمانی تدابیر کی حاجت ہے۔اس لیے جب تک آسمانی کشش اور آسمانی تائیدات کسی کو نہ دی جاویں کامیابی ہو تو ہر زمانہ میں فلاسفر اور دانشمند مدّبر ہوتے ہی رہے ہیں۔انبیاء علیہم السلام کے زمانہ میں بھی ایسے لوگ ہ گذرے ہین۔اب بھی موجود ہیں۔لیکن وہ فلاسفر اور ریفار مر خدا تعالیٰ سے اس قدر دور جا پرے ہیں کہ ان کے نزدیک شاید خدا تعالیٰ کا نام لینا بھی ایک گناہ اور غلطی قرار دیا گیا ہے۔پھر بتائو کہ یہ فلسفہ اور یہ اصلاح تمہیں کہان تک لے جائے گی؟اس سے کسی بہتری کی امیر درکھنا خطرباک غلطی ہے کیا تم نہیں دیکھتے کہ خدا تعالیٰ نے یہی سنت رکھی ہے کہ اصلاح کے واسطے نبیوں کو مامور کر کے بھیجا ہے۔انبیاء علیہم السلام جب آتے ہیں تو بظاہر دنیا میں ایک فسادِ عظیم نظر آتا ہے۔بھائی بھائی سے باپ بیٹے سے جدا ہو جاتا ہے۔ہزاروں ہزار جانیں بھی تلف ہو جاتی ہیں۔حصرت نوح علیہ السلام کے وقت طوفان سے ان کے مخالفوں کو تباہ کر دیا گیا۔موسیٰ علیہ السلام کے وقت اور دوسرے کئی عذاب وارد ہوئے اور فرعونکے لشکر کو غرق کیا گیا۔ غرض جوب یاد رکھو کہ قلوب کی اصلاح اسی کا کام ہے جس نے قوب کو پیدا کیا ہے ۔نرے کلمات اور چرب زبانیاں اصلاح نہیں کر سکتی ہیں۔بلکہ ان کلمات کے اندر ایک روح ہونی چاہیے۔پس