الصلوٰۃ والسلام نے بھی اپنے رسل بغرض تبلیغ بھیجے تھے۔۱۳؍اکتوبر کو جلسہ سے واپس آنے پر بعض اور لوگ بھی دارالامان آئے ۔سلسلہ کلام میں ندوہ کے متعلق ذکر آیا کہ وہ بحث مباحثہ سے الگ رہ کر اصلاح چاہتے ہیں۔اس پر فرمایا : اگر ندوہ کا دعویٰ اصلاح ہے تو امر تنقیح طلب یہ ہے کہ اصلاح کس طرح ہو سکتی ہیاور کن راہوں سے ہو رہی ہے اور اسلام پر کیا حملہ ہو رہا ہے؟ اس کی مدافعت اور انسداد کی تدابیر کا سوال بے محل اور ایسا دعویٰ خیالی دعویٰ ہوگا۔ پھر قابل غور امر یہ ہے کہ ان ساری خرابیوں کا انسدادِ ارضی طاقت سے ہو سکتا ہے یا آسمانی تائیدات سے؟اگر ندوہ والے چاہتے ہیں کہ لوگ پڑھ کر یعنی انگریزی تعلیم حاصل کر کے نوکر ہو جاجیں او ر ان کو ملازمت کے لیے آسانیاں ہوں تو یہ دین کا کام نہیں ہے۔یہ تو قوم کو غلام بنانے کی تدابیر ہیں۔اور اگر ان کی غرض دینی اصلاح ہے تو پھر یاد رکھیں کہ ؎ خدا را بخدا تواں شناخت اس اصل کو چھوڑ کر جو شخص چاہتا ہے کہ دینی اصلاح ہو جاوے۔وہ کبھی اس مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔اس خشک اور خیالی اصلاح سے کیا فائدہ ہوگا۔جس کے ساتھ خدا تعالیٰ کی تائیدیں اور نصرتیں نہیں ہیں۔وہ باتیں جو نری لفاظی کے طور پر بیان کی جاویں یا قصہ اور کہانی کی طرح گذشتہ امور پر جس کا حوالہ ہو۔ان کی پہلے سے کیا کمی ہے۔جو ایک خاص جماعت اپنا وقت اور غریب مسلمانوں کا روپیہ لے کر صرف کرے اور نتیجہ کچھ بھی نہ ہو۔میں اس قسم کی کارروائیوں کو کبھی پسند نہیں کرتا۔ایسی باتوں سے ریاکاری اور نفاق کی بُو آتی ہے۔کیونکہ یہ طریق اس مطلب اور گض کے حصول سے کو سوں دور ہے جس کے لیے انسان پیدا کیا گیا ہے اور جس طرح دنیا کی اصلاح ہوا کرتی ہے۔وہ رنگ اس میں موجود نہیں ہے۔ اصلاح کا طریق ہمیشہ وہی مفید اور نتیجہ خیز ثابت ہوا ہے۔جو اﷲ تعالیٰ کے اذن اور ایماء سے ہول۔اگر ہر شخص کی خیالی تجویزوں اور منصوبوں سے بگڑہوئی قوموں کی اصلاح ہوسکتی تو پھر دنیا میں انبیاء علیہم السلام کے وجود کی کچھ حاجت نہ رہتی جبتک کامل طور پر ایک مرض کی تشخیص نہ ہو اور پھر پورے وثوق کے ساتھ اس کا علاج معلوم نہ ہولے کامیابی علاج میں نہیں ہوسکتی۔ اسلام کی جو حالت بازک ہو رہی ہے وہ ایسے ہی طبیبوں کی وجہ سے ہو رہی ہے جنہوں نے اس کی مرضکو تو تشخیص نہیں کیا اور جو علاج اپنے خیال میں گذرا اپنے مفاد کو مد نظر رکھ کر شروع کر دیا۔مگر