اس کا یہ رجوع دیکھا گیا۔پھر اس پر خوف گالب ہوا۔اور وہ شہر بشہر بھاگتا پھرا۔اس نے اپنی مخالفت کو چھوڑ دیا اور کبھی اسلام کے مخالف کوئی تحریر شائع نہ کی۔جب انعامی اشتہاردے کر قسم کے لیے بلایا گیا،تو وہ قسم کھانے کو نہ آیا۔اخفائے شہادتِ حقہ کی پاداش میں اس پیشگوئی کے موافق جو اس کے حق میں کی گئے تھی۔وہ ہلاک ہو گیا۔یہ باتیں اگر عیسائی منصف مزاج کے سامنے پیش کی جاویں تو اس کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا۔غرض اس طرح پر مسائل کو یادرکھنا ایک فرض ہے اور کتا بوں کا دیکھنا ایک ضروری امر ہوتا ہے۔
رفع کے معنے
۱۰۔ رفع کے متعلق جو اعتراض کرتے ہیں اس کے لئے سمجھنا چاہئے کہ رفع سے یہودی تو یہی معنے سمجھے ہوئے تھے کہ جس پر لعنت پڑے اس کا روح آسمان پر نہیں جاتا ان کا یہ مذہب کب تھا کہ نجات کے لئے آسمان پر جانا ضروری ہے پس یہودیوں کی اصل غرض مسیح کو صلیب دینے سے یہ تھی ۔ان کے جسم سے ان کو کیا کام تھا ۔اللہ تعالیٰ کو بھی اسی اختلاف کا رفع سے جسمانی یہ تو یہودیوںکے اس الزام کی بریّت کہاں ہے ؟ اس طر ح پر قسم کے اعتراضوں کا جواب ـپہاڑوںکی طرح یاد ہونا چاہئے ۔مستحضر جواب دینا ہر ا کا کام نہیں اگر پکا جواب نہ ہو تو ؎ عذرنا معقول ثابت میکندالزام را۔کا معا ملہ ہوتا ہے ۔
اﷲ تعالیٰ نے اس سلسلہ کی سچائی کے تو ایسے دلائل دے دیئے ہیں۔کہ اگر یاد ہوں تو پھر کوئی مشکل نہیں ۔میرا ارادہ ہے کہ اس کتاب کے بعد پھر امتحان کی صورت رکھی جاوے۔رؤسا میں سے کسی کو خیال آوے کہ اسلام میں پھوٹ پڑ رہی ہے اور وہ اس کام کو اپنے ذمہ لے اور ایک جلسہ کر کے فیصلہ کرلے۔
۱۱۔ فرمایا :
طاعون کے متعلق سارے نبی پیشگوئی کرتے آئے ہیں کہ مسیح موعود کے وقت میں طاعوں شدت سے پھیلے گی۔؎ٰ
۱۳؍اکتوبر ۱۹۰۲ء
ندوۃ العلمأ اور اصلاح کا صحیح طریق
۱۹۰۲ء میں ندوۃ العمأ کا سالانہ جلسہ بمقام امرتسر ہوا تھا۔اس جلسہ پر حضرت مسیح موعود علیہ