ہی علیم و خبیر ہے۔ضوری نہیں کہ پیغمبروں پر بھی تفصیلی حالات ظاہر کئے جائیں ۔وہ جتنا علم چاہتا ہے دیتا ہے۔آنحضرت س اگر اس وقت آئیں تو اسلام کی اس قدر وسیع اشاعت اور ترقی کو دیکھ کر حیران ہو جائیں۔ صداقت کے چار قسم کے ثبوت ۷۔اپنے تائیدی ثبوتوں کے متعلق فرمایا کہ : اب وہ اس کثرت سے ہو گئے ہیں کہ گنے بھی نہیںجاتے۔ہر روز زیادتی ہوتی رہتی ہے۔یہ خدا کا کلام ہے۔مجھے بارہا خیال آیا ہے کہ اگر کسی رئیس کو یہ خیال پیدا ہو تو جس ترتیب سے خدا تعالیٰ نے اس سلسلہ کی سچائی کو ظاہر کیا ہے۔وہ ایک جلسہ کر کے اس ثبوت کو ہم سے لے۔یہ ثبوت چار قسم کے ہیں۔اگر عکل کو بھی اس میں داخل کر لیا جاوے۔ (۱)نصوصِ قرآنیہ وحدیثیہ۔(۲)آیات۱رضیہ وسماویہ۔(۳)ضرورت مشہودہ و محسوسہ۔ (۴)دلائل عقلیہ۔ اس ترتیب سے اگر عیسائیوں کے اس جلسہ کی طرح (جو پندرہ دن تک امرت سر میں ہوتا رہا) ایک جلسہ کیا جاوے اور قیصر سوم کی طرح جس نے ایک مذہبی جلسہ کیا تھا مذہب کی تحقیقات کے لحاظ سے نہ سہی بطور تماسا ہی کوئی کر کے دیکھے۔اس طرح پر آہستگی سے منہاجِ نبوت پر ہمارے ثبوت سُن لیے جاویں تو بہت بڑا مفید نتیجہ نکلے۔بے سک جس طریق پر حضرت موسیٰ کی نبوت یا حضرت عیسیٰ اور دوسرے نبیوں کی نبوت ثابت ہوتی ہے۔اس سلسلہ کو پر کھا جاوے۔ ۸۔ایک بار حضرت نے پیشگوئیوں کے نقشہ کی تیاری کا حکم دیا تھا۔پھر وہ نقشہ تیار ہوا۔اس کے متعلق یاد دہانی کرائی گئے تو فرمایا کہ : وہ پیشگوئیاں اب نزول المسیح میں چھپ رہی ہیں۔ان کی عبارات کا چست کرنا بھی ضروری تھا۔اب اس سے نقشہ بھی مرتب ہو سکتا ہے۔ آتھم کا رجوع الی الحق (۹)آتھم کی پیشگوئی کے متعلق ذکر کرتے ہوئے۔فرمایا کہ : ہماری جماعت کو یہ مسائل مستحضر ہونے چاہئیں۔آتھم کے رجوع کے متعلق یاد رہے کہ پیشگوئی سنتے ہی اس نے اپنی زبان نکالی اور کانوں پر ہاتھ رکھا اور کانپا اور زرد ہو گیا۔ایک جماعت کثیر کے سامنے