مگر خدا تعالیٰ نے ایسی زور شور سے ترقی کی جس قدر زور انہوں نے مخالفت میں لگایا۔اب تو بات صاف ہو گئی ہے۔مردم شماری کے کاغذات سے صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ ہماری جماعت تین سو تیرہ ہے یا ایک لاکھ کے قریب۔
طاعون نے ان کو دو طرح گٹھایا ہے۔کچھ مرتے ہیں اور اکثروں کو ادھر ملایا ہے۔اصل یہ ہے کہ جو بیج اچھی طرح بویا جاوے اور وقت پر بارش بھی ہو وہ دیکھتے ہی دیکھتے نشونما پاتا اور ترقی کرتا ہے۔دلوں کو کھینچنا اور قائم رکھنا یہ خدا کا کام ہے۔ان مخالفوں کو اگر اب ابو سفیان کی طرح نظارہ کرایا جاوے تو حیران ہو جائیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کو اپنی فوج دکھائی اور عباس کو کہا کہ ان کے پاس ٹھہر کر دکھائو اور جب اس نے وہ نظارہ کیا تو اس نے کہا کہ تیرا بھتیجا بڑا بادشاہ ہو گیا ہے۔مگر اُس کو جواب دیا گیا کہ بادشاہی نہین نبوت ہے۔
براہین احمدیہ کے زمانہ پر غور کیا جاوے۔جب وہ چھپ رہی تھی۔اب تو نہیں بنائی گئے۔اس وقت کے الہامات اس میں درج ہیں۔جو انگریزی میں بھی ہیں اور عربی میں بھی۔
اذاجاء نصراﷲ والفتح وانتھی امر الزمان الینا الیس ھذابالحک
ایک مخلوق ہماری طرف رجوع کرے گی۔تو کہا جاجے گا۔
الیس ھذا بالحک۔وانتھی امر الزمان الینا۔
عربی میں بڑا عجیب فقرہ کہ زمانہ کا رجوع ہماری طرف ہوگا۔اور آخری فیصلہ ہمارے ہی حق میں ہوگا۔غرض بڑی بڑی پیشگوئیاں ہیں۔جیسے یہ کہ ’’بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے‘‘۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض ملوک کو بھی اس طرف توجہ ہو گی۔اور ان میں بھی اس سلسلہ کی اشاعت ہوگی۔ملوک اور رؤسا کے کان حق کے سننے سے بہرے ہوتے ہیں۔نہ خود ان کو عادت ہوتی ہے اور نہ ان کے پاس والے ایسے ہوتے ہیں۔ان کے مصاحب اور پاس رہنے والے بدوضع لوگ ہوتے ہیں۔اس لیے وہ اپنی سد دنیا کا باعث سمجھتے ہیں۔اگر وہ دین کی طرف توجہ کریں۔مگر خدا تعالیٰ نے مجھے فرمایا کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔یہ برکت ڈھونڈنے والے بیعت میں داخل ہوں گے۔اور ان کے بیعت میں داخل ہونے سے گویا سلطنت بھی اس قوم کی ہوگی۔
پھر مجھے کشفی رنگ میں وہ بادشاہ دکھائے بھی گئے۔وہ گھوڑوں پر سوار تھے۔اور چھ سات سے کم نہ تھے۔اصل یہ ہے کہ خدا کے کام تدریجی ہوتے ہیں۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ معظمہ کی گلیوں میں تکلیف اُٹھاتے پھرتے تھے۔اس وقت کون خیال کر سکتا تھا اس شخص کا مذہب دنیا میں پھیل جائے گا۔
علم خدا تعالیٰ کے سوا اور کسی کو نہیں ہوتا۔صحابہ کرام رضیاﷲ عنہم کے علم کا دائرہ بیھ اشاعت اسلام کے متعلق اتنا نہ تھا،جتنا اب ہے۔وہ تو یقین کرتے تھے کہ ہم فتح پائیں گے۔میرا مذہب تو یہ ہے۔خدا تعالی