ایک شخص جو اپنے تیئںسچا سمجھتا ہے۔وہ خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے۔مگر اب یہ بھروسہ نہیں کر سکتے۔اور اسی لیے اگر خواہ کئے ہزار روپیہ کا اشتہار دیا جاوے۔یہ پانے آپ کو مد مقابل ہو کر نشانہ نہ بنائیں گے۔ ۳۔مخالفوں کی کمی اور اپنی روزافزوں ترقی پر فرمایا : یہ فوق العادۃ ترقی نہ ہو اگر تغیر واقع نہ ہوا ہو۔اُن کا خزانہ کم ہو رہا ہے اور ہمارا بڑھ رہا یہ۔اگر اُن کے پاس اپنی سچائی کے دلائل ہیں۔تو یہ لوگوں کو روک لیں ۔اگر کوئی بڑا سیلاب آیا ہوا ہو اور کسی کا گھر تباہ ہو رہا ہو اور اس کے پاس سامان بھی ہو۔تو کیا وہ اس کے روکنے کی سعی نہ کرے گا۔ ہمارے پاس جو ہر روز بیعت کے لیے آتے ہیں ان میں سے ہی آتے ہیں۔آسمان سے تو نہیں آتے۔ ۴۔ندوۃالعُلماء کے جلسہ کی تقریب پر فرمایا کہ : اشاعت رسالوں کی خوب ہو گئے۔بہت اچا ہوا۔بہت سے لوگ واقف ہو جائیں گے اور ان کو پڑھ لیں گے۔دہلی کے جلسہ سے پہلے نزول المسیح بھی تیار ہو جاوے تو اچھا ہے۔ ۵۔ایڈیٹر الحکم کو مخاطب کر کے فرمایا کہ : میاں نبی بخش صاحب عرف عبدالعزیز صاحب نمبردار بٹالہ کہ توبہ نامہ جو اُس نے بھیجا ہے۔الحکمؔ میں چھاپ دیا جاوے۔ اور ساتھ اپنا ایک رؤیا بھی جسے بار ہا آپ نے فرمایا ہے۔سنا یا کہ میں نے ایک بار اس کے متعلق دیکھا تھا کہ گویا اسی راستہ ہم سیر کو نکلے ہیں تو اس بڑ کے درخت کے نیچے جو میران بخش حجام کی حویلی کے پاس ہے۔نبی بخش سامنے سے آکر ملا یہ اور اس نے مصافحہ کیا ہے۔یہ رؤیا ان دنوں کی ہے جب وہ مخالفت کے اشتہار چھپواتا پھرتا تھا۔ جماعت کی ترقی اور اس کے متعلق براہین احمدیہ میں پیشگوئیاں ۶۔جماعت کی ترقی پر اور مولوی محمد حسین کے ابھی تین سوتیرہ ہی کہتے رہنے پر فرمایا کہ : بڑے زور سے ترقی ہو رہی ہے۔کیا وہ نہیں جانتا کہ خدا قادر ہے کہ ایک دم میں تین سو تیرہ سے تین لاکھ تیرہ ہزار کر دے۔یہ ترقی محمد حسین کے لیے تو اعجاز ہے۔اگر وہ سوچے اور سمجھے براہین احمدیہ کو پڑھے۔یہ کتاب میں نے اب تو نہیں بنالی ۔جس مین لکھا ہوا ہے کہ تیرے ساتھ فوجیں ہوں گی۔باوجود مولویوں کی اس قدر مخالفت کے پھر اس قوم کا ترقی کرنا کیا یہ معجزہ نہین۔جبکہ وہ اپنے ارادوں میں عاجز آگئے۔کس قدر جدّوجہد ان لوگوں نے ہمارے نابود کرنے کے لیے کی۔گورنمنٹ تک سے چاہا کہ کسی نہ کسی طرح سے ہم کو پھنسا ئیں۔