بڑی پیش گوئی کا پورا ہونا ہے جو تیرہ سو سال پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لبوں پر جاری ہوء۔ اس قدرمدت دراز پہلے یہ خبر دینا قیافہ شناسی اوراٹکل بازی نہیں ہو سکتی اور پھر یہ پیشگوئی اکیلی نہیں ، بلکہ اس کے ساتھ ہزاروں وہ آیات و نشانات ہیں جو اس وقت کے لئے پہلے سے بتا دئیے گئے تھے اور ان سب کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے خود یہاں ہزاروں نشانوں کا سلسلہ جاری کر دیا چنانچہ کئی سو پیشگوئیاں پوری ہو چکی ہیں ۔ جو قبل از وقت ملک میں شائع کی گئیں پھر وہ اپنے وقت پر پوری ہوئی ہیں ۔ جن کو ہمارے مخالف بھی جانتے ہیں ۔ اب کیا قرآن کریم کا معجزہ اس کی پاک تعلیم کا نتیجہ اور اثر ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی اور تاثیر انفاس کے ثمرات نہیں ۔ ماننا پڑے گاکہ یہ سب کچھ آپ ہی کے طفیل ہے کیونکہ یہ مسلم بات ہے۔
خارقے کز ولی مسموع است
معجزہ آن نبی متبوع است
اس لئے جس قدر یہ نشانات اور آیات یہاں ظاہر ہو رہی ہیں یہ درحقیقت رسول اللہ ا ہی کے خوارق اور معجزات اور پیشگوئیاں قرآن شریف ہی کی پیش گوئیاں ہیں کیونکہ آپ ہی کے اتباع اورقرآن شریف ہی کی تعلیم کے ثمرات ہیں ۔ اور اس وقت کوئی اور مذہب ایسا نہیںہے جس کا پیروا ور متبع یہ دعوی کر سکتا ہو کہ وہ پیشگوئیاں کر سکتا ہے یا اس سے خوارق کا ظہور ہوتا ہے اس لئے اس پہلو سے قرآن شریف کا معجزہ تمام کتابوں کے اعجاز سے بڑھا ہوا ہے۔
پھر ایک اور پہلو فصاحت بلاغت ایسی اعلی درجہ کی اورمسلم ہے کہ انصاف پسند دشمنوں کی بھی اسے ماننا پڑا ہے قرآن شریف نے فأ توا بسورۃ من مثلہٖ( البقرہ:۲۴) کا دعوی کیا۔ لیکن آج تک کسی سے ممکن نہیں ہوا کہ اس کی مثل لا سکے عرب جو برے فصیح و بلیغ بولنے والے تھے اور خاص موقعوں پر بڑے بڑے مجمع کرتے تھے اور ان میں اپنے قصائد سناتے تھے وہ بھی اس کے مقابلہ سے عاجز ہو گئے۔
اور پھر قرآن شریف کی فصاحت و بلاغت ایسی نہیں ہے کہ اس میں صرف الفاظ کا تتبع کیا جاوے اور معانی اور مطالب کی پرواہ نہ کی جاوے بلکہ جیسا اعلی درجہ کے الفاظ ایک عجیب ترتیب کے ساتھ رکھے گئے ہیں اسی طرح پر حقائق اور معارف کو ان میں بیان کیا گیا ہے اور یہ رعایت انسان کا کام نہیں کہ وہ حقائق اور معارف کو بیان کرے اور فصاحت و بلاغت کے مراتب کو بھی ملحوظ رکھے۔
ایک جگہ فرماتا ہے کہ یتلوا صحفا مطھرۃ فیہا کتب قیمہ( البینہ:۳،۴) یعنی ان پر ایسے صحائف پڑھتا ہے کہ جن میں حقائق و معارف ہیں انشاء والے جانتے ہیں کہ انشاء پردازی میںپاکیزہ تعلیم اور اخلاق