نووارد مولوی حامد حسین صاحب نے کہا کہ میں مکہ معظمہ میں تھا۔حاجی امداد اﷲ صاحب سے ایک شخص نے ایسا ہی کہا کہ میں نے ایسی شکل پر دیکھا تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ یہ تمہاری اپنی شکل ہے۔ اس کے بعد خاکسار ایڈیٹر الحکم نے جلسہ ندوۃالعلماء پر جو کارروائی کی تھی،اس کا تذکرہ کیا جس کو سن کر حضرت حجۃ اﷲ محظوظ ہوئے۔ پھر مولوی عبد اﷲ صاحب نے اس روئداد کے تتمہ کے طور پر مولوی محمد حسین صاحب کا کچھ ذکر کیا۔اور مولوی مبارک علی صاحب نے اپنا ایک واقعہ سنایا۔یہ سب امرو جلسہ ندوہ کے متعلق ہمارے اپنے مضامین میں آئیں گے۔زاں بعد مولوی علی صاحب ایم۔اے نے آبزروؔر میں سے پایوؔ نیز کا نقل کیا ہوا ایک مذہب نئے عنوان سے پڑھا۔جس میں ڈاکٹر ڈوئی کو جو دعوت کی گئے ہے۔اس پر ریمارک تھا ۔پھر بعد نماز عشاء اجلاس ختم ہوا۔؎ٰ صبح کی سیر ۱۳؍اکتوبر ۱۹۰۲ء؁ ۱۔حضرت حجۃاﷲ علی الارض حسب معمول سیر کو نکلے۔چند آدمیوں نے اپنے خواب سنائے۔آپ نے فرمایا : باطل میں جو تیاریاں حق کی طرف آنے کے لیے ہو رہی ہیں۔ا۲س کے نظارے دکھائے جاتے ہیں۔رؤیا کا بھی عجیب عالم ہوتا ہے۔جن باتوں کا نام و نسان نہیں ہوتا وہ وجود میں لائی جاتی ہیں۔معدوم کا موجد اور موجود کا معدوم دکھایا جاتا ہے اور عجیب عجیب قسم کے تغیرات ہوتے ہیں۔آدمی کا جانور اور جانور کے آدمی دکھائے جاتے ہیں۔ ۲۔ہمارے موجودہ مخالفوں اور دس برس پہلے کے مخالفوں میں بہت فرق ہو گیا ہے۔پہلے تو اپنے عقیدوں کو سچے ہی سمجھتے تھے۔مگر اب صرف نفاق سے کہتے ہیں جو کہتے ہیں؛ ورنہ ان عقائد کی غلطیوں کو دل میں تسلیم کر چکے ہیں (جحدو ابھا واستیقنتھاانفسھم )(النمل : ۱۵)