محی الدین بھی قائل ہیں کہ انسان متقی ہو۔اور خدا پر ایمان لانے والا ہو تو نجات پائے گا۔؎ٰ
۱۲؍اکتوبر ۱۹۰۲ء
بعد ادائے نماز مغرب حسب معمول حضرت اقدس علیہ الصلوٰہ والسلام شہ نشین پر اجلاس فرما ہوئے۔حضرت مولانا مولوی عبد الکریم صاحب سلمہ الرحیم نے شحنہ ہند کے ایڈیٹر کا ایک کارڈ سنایا۔جس میں اس نے اپنا ایک خواب لکھا تھا۔کہ گویا وہ قادیان آیا ہے اور حضرت اقدس کو ایسی حالت میں دیکھا ہے کہ سر پائوں سے لگا ہوا ہے۔اس پر حضرت حجۃاﷲ نے فرمایا کہ :
انبیاء آئینہ کا حکم رکھتے ہیں
تعبیر الرؤیا میں یہ صاف لکھا ہے۔کہ جو لوگ مامورین کو بری صورت میں دیکھتے ہیں۔وہ لوگ اپنی پردہ دری کراتے ہیں۔
مولوی ابو یوسف محمد مبارک علی صاحب کے والد مرحوم نے ایک بار مجھ سے ذکر کیا۔کہ ایک ہندو ان کے پاس آیا کرتا تھا۔جو اسلام سے رغبت رکھتا تھا۔کچھ عرصہ کے بعد وہ کشمیر سے آیا اور اس سے پوچھا تو اس نے کہا کہ اب میں پکا ہندو ہو گیا ہوں۔لیکن پھر عرصہ کے بعد جو اس کو دیھا تو وہ عیسائی ہو گیا تھا۔جب اس سے وجہ پوچھی ۔تو اس نے کہا کہ میں نے ایک خواب دیکھا تھا۔جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک تاریک کوٹھڑی میں دیکھا اور اس میں آگ جل رہی تھی (لعنۃاﷲ علیہ) گویا خبیث نے اس کو دوزخ سمجھا۔اور اس کے گرد پادریوں کو دیکھا۔اس سے میں نے نتیجہ نکالا کہ پادری حق پر ہیں۔اور آپؐ (معاذاﷲ) مغلوب ہو رہے ہیں۔مولوی صاحب کو تعبیر کا علم نہ تھا۔مجھ سے جب انہوں نے کہا تو میں نے کہا کہ اس کی یہی تعبیر ہے۔جو حالت اس شخص کی ہوئی؛چنانچہ تعطیر الانام میں ایسا ہی لکھا ہے۔کہ جب کسی نبی مامور و مرسل کو ردی حالت میں دیکھتا ہے۔مثلاً مجذوم دیکھتا ہے یا برہنہ دیکھتا ہے یا یہ کہ وہ بُری غذا کھاتے ہیں،تو سب اس کے اپنے ہی حالات ہوتے ہیں۔انبیاء آئینہ کا حکم رکھتے ہیں اور اس کی اصل صورت دکھادیتے ہیں۔اور یہ بات ہماری اپنی تجربہ کردہ ہے۔کہ جب کوئی آدمی کسی مامور و مرسل کو بُری حالت میں دیکھتے ہیں تو جلدی ہی ان کی وہ حالت پیدا ہو جاتی ہے اور اس کی عقوبت کے دن قریب ہوتے ہیں۔یہ میرے مجربات سے ہے۔