کے متعلق جو اعتراض ہوں وہ بیان کریں۔
تو کارے زمیں را نکو ساختی
کہ با آسماں نیز پر د ا ختی
ہم نے بعض آدمی ایسے دیکھے ہیں جو کہتے ہیں کہ اجی اس جھگڑے کو جانے دو۔رفعیدین اور انگلی کے اُٹھانے کا فیصلہ کرو۔مگر یہ اپنا اپنا مذاق ہوتا ہے۔
تو دارد صاحب کی طرف سے سوال ہوا کہ سایہ کا وجود ہے کہ نہیں یعنی اس کی ذات ہے کہ نہیں۔
فرمایاؔ : وجود کے معنی ہیں مایوجد یعنی جو چیز پائی جاوے اس کی ہویت ہو یا نہ ہو۔آپ آئینہ دیکھتے ہیں، اس میں چہرہ نظر آتا ہے ۔ہویت تو نہیں یعنی ایک مستقل شے قائم بالذات ۔پس ہویت تو نہیں لیکن وجود ہے۔وجود اور ہے اور ہویت اور ہے۔
آفتاب نے جہاں ظل ہے وہاں بھی دھوپ ڈالنی ہے۔مگر ایک چیز نے درمیان آکر ظل پیدا کر دیا ہے۔آفتاب اور ظل کے درمیان جبتک اوٹ نہ ہو سایہ نہین ہو سکتا۔
خیر آپ کو بھی اس وجودیت سے کچھ مذاق ہے اور ہم آپ کے مذاق کے خالف ہیں۔
کن کا اطلاق پھر سوال ہوا کہ کن کا اطلاق کہاں آتا ہے۔فرمایا :
بات یہ ہے کہ آپ کئے مرتبہ خوابوں میں طرح طرح کے تمثلات دیکھا کرتے ہوں گے اور بظاہر آپ جانتے ہیں کہ ان کا وجود کچھ نہین’حکماء نے بھی لکھا ہے۔پس جس طرح ہمارے تصورات ہوتے ہیں اسی طرح خدائی صفات میں سے اس کے تصورات بھی ہیں۔پس جو تصور آتا ہے۔اگر انسانی ہے تو وہ ہیچ ہے اور اگر خدا کا ہے تو اس سے مخلوق پیدا ہو جاتی ہے۔مگر خدا کی کنہ میں ہم دخل نہین دے سکتے۔اسلم طریق یہی ہے کہ انسان لاتد رکہ الابصار پر ایمان رکھے ۔کہ میرا منصب نہیں کہ خد اکی کل صفات کو میں دیکھ لوں اور ان کی تحقیقات کر لوں۔
طبیب بیان کرتے ہیں کہ پانی سرد اور آگ گرم ہے۔مگر یہ نہیں بتلا سکتے کہ پانی سرد کیوں ہے اور آگ گرم کیوں ہے۔فلاسفر بھی یہان کُنہِ اشیاء میں آکر عاجز رہ گئے ہیں۔ یہاں افوض امر ی الی اﷲ پر چلے کہ ہم خدا پر چھوڑ دیں۔
بعض اکرابر محیالدین العربی وغیرہ کی نسبت ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔اس لیے کہ یہ بحث فضول ہے۔بہت امور مرنے کے بعد معلوم ہوں گے۔اور بہت سے ایسے ہیں کہ مرنے کے بعد بھی نہین معلوم ہوں گے۔