میرے خیال میں وخدت وجود بھی مذاق سے پیدا ہوا ہے۔کل کتبِ گذشتہ سے یہی معنی ثابت ہوتے ہیں اور اس کی تفصیل قرآن اور توریت میں موجود ہے۔اول تو ان بحثوں کی حاجت نہیں۔انسان کے واسطے پہلے تو یہی امر ضروری ہے کہ اجمالی طور پر خدا پر ایمان لاوے۔جب اس کا ایمان پیدا ہوگا،تو خود بخود اس پر حقائق کھلتے جاویں گے۔
دیکھو۔ایک مرض میں قوتِ ذائقہ جاتی رہتی ہے۔تُرشی،میٹھا،کڑوا،تمکین وغیرہ سب کچھ بے مزہ معلوم ہوتا ہے۔پس معلوم ہوا کہ قوتِ حاسہ بھی کام دے رہی ہے۔ایک قوت ناک میں ہوتی ہے جس کے وہ نہین رہتی اس کو اَخشَم کہتے ہیں۔بعض کے کانوں کے قوت ماری جاتی ہے۔پس جب اس طرح بعض قوتیں جاتی رہتی ہیں۔تو اسی طرح بعض اوقات دینی قوتیں بھی بے حس ہو جاتی ہیں۔اور انسان سید احمد خاں کی طرح دعا کا قبول ہونا اور ایسی باتیں نا ممکن خیال کر بیٹھتا ہے۔
قبولیت دعا کا ثبوت
دعا کے قبول ہونے پر ہامرا کامل ایمان ہے۔اور ہم نے اس کا نتیجہ بھی دیکھا ہے۔کہ لیکھرام کے قتل سے پہلے پانچ سال میں نے خبر دی تھی۔
میں نے سید احمد خاں کو لکھا تھا کہ میں نے لیکھرام کے واسطے دعا کی ہے،تومجھے خبردی گئے ہے کہ تیری دعا قبول ہو گئے ہے اور خدا تعالیٰ اس کو ہیبت ناک موت سے مارے گا۔یہی نمونہ تمہارے سامنے پیش کرتا ہوں۔کہ اگر یہ دعا قبول نہ ہوئی،تو تمہارے دعویٰ کا ثبوت ہوا۔اور اگر قبول ہو گئے تو تم اس عقیدہ سے توبہ کرنا ۔اور وہ لیکھرام کی موت دیکھ کر فوت ہوا۔
پس اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے
لا تدرکہ الابصار وھویدرک الابصار (الانعام : ۱۰۴)
آنکھیں تو اس کو دیکھ نہیں سکتیں۔اور وہ آنکھوں کو دیکھ سکتا ہے۔جب وجودی ہو گیا۔تو پھر باقی کیا رہ گیا۔
اصل میں یہ سب مذاقی باتیں ہیں۔ثبوت تو وہ ہے جس کا نمونہ انسان دکھلا دیوے۔آنحضرت ﷺ۔موسیٰ ؑ۔عیسیٰ ؑکے مصائب پر ذرا غور کرو۔
ان باتوں کے ذکر کی ضرورت نہیں۔اول خدا سے تعلق پیدا کرو۔جب انسان کسی گھر میں داخل ہوتا ہے،تو اندر کے حالات کا آپ ہی پتہ لگ جاتا ہے۔جبتک گھر سے ہزاروں کوس دور ہے تو اندر کے حالات کس طرح بتلا سکے گا۔یہ مناسب ہے کہ چند روز ہمارے پاس رہیں اور خاص ہمارے سلسلہ