الحمد للہ رب العلمین الرحمن الرحیم ملک یوم الدین (الی آخرالسورۃ ) (الفاتحہ) یہ ساری باتیں چاہتی ہیںکہ کوئی رب ہے اور کوئی چیز مخلوق بھی ہے ۔ پس ہم کو اپنی خدائی کاثبوت دیں ۔ خدانے انسان کو مخلوق پیداکیا ہے اور دنیا میں بھی مخلوق بنایا ہے ۔ پھر ہم چاند سورج وغیرہ کو کس طرح خدا مان لیں ۔ تمام انبیاء سے خوف ظاہر ہوتے رہتے ہیں اگر ان میں کچھ بھی خدائی کا رنگ ہوتا ،تو خوف کیوںآتا۔ میری جماعت میں بھی ایک شخص مولوی احمد جان صاحب وجودی تھے۔کبھی اُنہوں نے مجھ سے اس مسئلہ پر گفتگو نہیں کی۔اب تھوڑا عرصہ ہوا ہے کہ وہ فوت ہو گئے ہیں۔اور ساری عمر اسی میں گذاردی۔ ہم کسی کے زرخرید نہیں ۔ہم تو اَسلَم اور روشن تر راہ اختیار کرتے ہیں۔وجودیوں کے کوئی دشمن نہیں۔ ہم تو ان کو قابل رحم سمجھتے ہیں۔ اس پر نودارِدصاحب نے آیت ھوالاول والاخر (الحدید : ۴) وحدت وجود کے ثبوت میں پیش کی۔فرمایا : اﷲ تعالیٰ کا کلام ایسا ہے کہ اس کی تفصیل بعض آیت کی بعض سے ہوتی ہے۔اول کی تفسیر یہ ہے کہ کان اﷲ ولم یکن معہ شیئی۔ اٰخر کے معنے کیے۔ کل من علیہا فان (الرحمان : ۲۷) ہم تو انہی معنوں کو پسند کریں گے۔جو خدا نے بتلائے ہیں۔ افسوس ہے کہ اس زمانہ کے یہودی صوم وصلوٰۃ کے تو پابند ہی نہیں اور قرآن کو کبھی کھول کر دیکھا ہی نہیں۔ہاں میں اپنے اس ملک کی بات کرتا ہوں۔جس میں جالندھرؔ،بٹالاہؔ،ہوشیارؔپور،سیالکوٹؔ وغیرہ شامل ہیں۔ان لوگوں کو میں نے شراب خوروں،بھنگیوں اور دہریوں کی مجلس میں اکثر دیکھا یہ۔اکثر کہتے ہیں کہ وجودی وہ ہے کہ جو خدا کا نام بھی نہ لے بلکہ جو کچھ ہے مخلوق ہے۔پس یہ لوگ کہتے ہیں کہ اعلیٰ وجودی وہ ہے جس کو لوگ دہریہ کہتے ہیں۔پس ہر شخص اپنے قول و فعل کا خود ذمہ دار ہے۔ وکان اﷲ ولم یکن معہ شیئی حدیث ہے۔اور حدیث اور توریت سے ثابت ہے کہ خدا تھا اور زمین اور آسمان وغیرہ میں سے کچھ نہ تھا۔یہ مسلم مسئلہ ہے تمام اہلِ کتاب کا۔پس ہمارا اختیار نہیں کہ مروڑ کر اور معنی کر لیں۔بعض آدمی مذاق کے دلدادہ ہوتے ہیں۔مگر مذاق بھی ایک قسم کا زہر ہے۔ہمیں مذاقی معنے پسند نہیں کرنا چاہئیں۔بلکہ توریت،قرآن اور حدیث کو دیکھنا چاہیے وہ یہی کہتی ہیں کہ ایک وقت ایسا تھا کہ ان موجودہ چیزوں میں سے ایک بھی نہ تھی۔