تو اس صورت میں کوئی دیکھنے والا اگر اس کو آگ کہہ دے تو ایک صورت سے معذور ٹھہر سکتاہے کیونکہ آگ اس پر مستول ہوئی ہوتی ہے ۔ کسی کا شعر ہے ؎ من تو شُد م تو من تو شُدی من تن شُدم تو جان شُدی تاکس نگوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری غرض شہودی مذہب کی یہ بناکہ انسان خداکہ وجودسے بہت بہرہ ور ہوسکتاہے جب خدااور مخلوق کی محبت ایک دل میں آکر جمع ہوتی ہے تو انسان پر ایک نیا رنگ چڑھتا ہے ۔ اور اس حالت میں وہ اپنے آپ کودیکھتا ہے کہ گویا بالکل خدا میں کھویاگیا ہے اور اپنے تئیں محو دیکھتا ہے اور خدا ہی نظر آتا ہے ۔ وجود ی ایک حقیقت کاطلب گار ہوتاہے۔ اس کو محبت سے کچھ تعلق نہیں ۔ جیسے آج کل کے وجودیوں کا دعویٰ ہی دعویٰ ہے کہ میں خدا ہوں ۔ شہود والا کہتا ہے کہ انسان انسان ہے اور خدا خدایعنی شہود کے طور پراپنے تئیں طالب اور خد امیں کھویا ہو اپاتا ہے ۔ اگر انسان کو خدابنناتھا تو یا تو اس جہان میں خددا بنتایا آخرت میں خدابنتا ۔ مگر ثابت ہے کہ یہاں بھی انسان ہے اور وہاں بھی ۔ یہ جامہ تواس کے اوپر سے اترتانظر نہیں آتا ۔ ہم کہتے ہیں کہ ہر ایک شخص اپنا رنگ رکھتا ہے ۔ بہت لوگ قوالی میں ہی لذّت اُٹھاتے ہیں ۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ یہ عارفانہ مشرب نہیں ۔ پس اگر اس کی کوئی دلیل دنیا میں ہوتی ، توچاہئیے تھا کہ کوئی آدمی تو ایسا نظر آتا جس میں خدائی کے صفات ہوتے ۔ دنیاوی لوگوں کے من گھڑت خدا اور خدا کے مرسل بندہ کا مقابلہ یوں ہوسکتا ہے کہ مسیح کوتو خدامانا ۔ اور محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑنے والا خود مر گیا ۔ پس انصاف کرو کہ ایک شخص انسان کہلاتا ہے اور اپناکام خداپر چھوڑتا ہے ۔ اس کو پکڑنے والاخود مارا جاتا ہے ۔ یہودی جس کی صفت میں آیا ہے ۔ ضربت علیہم الذلۃ و المسکنۃ ( البقرہ : ۶۲) وہ اس خدا کہنے والے جو کو ایک ہی گھنٹہ میں گرفتار کر لیتے اور مارنے کو تیار ہوجاتے ہیں ۔ فاعقبروا یا اولی الابصار۔ اگر کوئی یہ کہے کہ وہ محض خدائی تھی تو اس کو جانے دو ۔ جہاں تک ہم دیکھتے ہیں ۔ خداہم سے باتیں کرتا ہے اورخوارق اور معجزات دکھلاتا ہے ۔ پر پھر بھی ہم انسان ہیںدیوار کاوجود ایک الگ چیز ہے ۔ اور دھوپ کاوجود الگ ہے ۔