موجود ہے اور وہ صرف ضرب کا محتاج تھا، مگر جس کے اندر موجودنہیں ۔اس میں سے کیا نکلے گا ۔
ہر ایک نیکی تب قبول ہو تی ہے جب اس کے اندر تقویٰ ہو ؛ورنہ قبول نہیں ہو تی ۔زندگی تو برف کے ٹکرے کی مثال رکھتی ہے ۔ ہزاروں پردوں میں رکھو پگھلتی جاوے گی۔
اصل میں مخالف کی بات کا امتحان مخالف سے پوچھ کر ہوتا ہے ۔ میں نے تو اپنا مَسلک بیان کردیا ہے ۔ میرے پاس بہت سے عیسائی آیا کرتے تھے ۔اب نہیں آتے ۔میں تو ان کو ہمیشہ یہی کہتا ہوں کہ زندہ مذہب ثابت کرو مُردہ تو ہمیں اُٹھاناپڑے گا اور زندہ ہمیںاُٹھادے گاکچھ جواب نہیں دے سکتے یورپ ،امریکہ میں سولہ ہزار اشتہار رجسٹری کرا کر بھیجا ۔کوئی جواب نہیں آیا
ہماراخدا زندہ ہے ۔ہماری آواز سنتا ہے ۔ہمیں جواب دیتاہے ۔ پس ہم صلیب پر چڑھے ہوئے خدا کو کیوں مانیں ۔ یہ لوگ شریر ہوتے ہیں اور ان کے پاس باتیں ہی باتیں ہوتی ہیں ۔ میں پندرہ برس کا تھا جب سے ان کے اور میرے مباحثات شروع ہیں ۔ ان کے پاس صرف اعتراض ہی اعتراض ہیں ۔ اورہمیشہ آنحضرت ﷺؓ پر اعتراض کرتے آئے ہیں اور جاہلوں اور بد نصیبوں کو ان اعتراضات سے شک پڑ جاتے ہیں ۔ دوسری طرف یہ لوگ اس کو طبع دنیاوی دے کر ابتلا میںڈال کر مُر تد کر لیتے ہیں ۔ میں نے سنا ہے کہ ۲۹لاکھ آدمی انھوں نے ہند میں مُر تد کیا ہے ؛ پس اسلام کا سخت دشمن یہی مذہب ہے ۔
طاعون کو دیکھا ہے کہ پہلے ہنود میں آتی ہے ۔ یعنی بمبئی ،سیالکوٹ ، جالندھر وغیرہ میں پہلے ہنود سے شروع ہوئی اور جب مسلمانوں میں گئی ۔ تو بھی پہلے ہنود کو شامل کر لیا ۔
وحدت الوجود اور وحدت الشہود
نوارد صاحب نے وجودی فرقہ کی نسبت سوال کیا ۔
فرمایا :
میرے نزدیک یہ بات بھی تدبّر کرنے کے لائق ہے ۔ یہی وجود اور شہود ، میرا مذہب تو یہ ہے کہ وہاں قدم رکھنا فعلی اور جرات ہے جہا ں انسان قدم رکھنے کامستحق نہیں ۔
وجودی فلسفی رنگ کادعویٰ کرتا ہے جس طرح ڈاکٹر مردہ کو پھاڑ کر اس کااندر دیکھ لیتا ہے میں نے اسی طرح خدا کو دیکھ لیا ہے ۔ یہ بھی دعویٰ کیا ہے ۔
الحمد للہ الذی خلق الاشیاء وھواعینھا۔
یہ بہت بڑا دعویٰ ہے ۔ شہودی مذہب استیلاء محبت کا نام ہے ۔ جیسے لوہا اگر آگ میں نہایت سرخ کیا جاوے