تک پنہچ گئے ہیں ۔ مثلاً مسیح کو خالق بنا رکھا ہے ۔ احیا ئے موتیٰ کرنے والا ماناہوا ہے ۔ پس مذہب وہی ہے جو قرآن کا معیار اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے ؛اگرچہ انسان بظاہر گھبراتا ہے کہ اس پاک مذہب کو میں کس طرح پاؤں ۔ مگر یاد رکھو کہ جو یندہ یابندہ ۔ صبرتقویٰ ہاتھ سے نہ دے ؛ ورنہ خداتعالیٰ غنی ہے ۔ اس کو کسی کی کیا پرواہ ہے پس انسان خدا کے سامنے خاکسار بنے ۔ تو اس پر لطف اور احسان کرت اہے اور اس کی آنکھیں کھول دیتا ہے ۔ توبہ ؔ دعا ؔ اور استعفار کرے اور کبھی نہ گھبراوے ۔ ہر ایک شخص بیمار ہے اور کبھی صحت نہیں پا سکتا ۔ جب تک خدا کونہ دیکھ لے پس ہر وقت اداس اور دل برداشتہ رہے اور تمام تعلقات کو توڑ کر خدا سے تعلق پیدا کرے ؛ ورنہ اس وقت تک جب تک کہ خداسے نہیں ملا یہ گندہ اور نجس ہے ۔ خداتعالی نے فرمایا ہے : من کان فی ھذا ہ اعمیٰ فھوا فی الاخرۃ اعمیٰ۔ ا لآیۃ (بنی اسرائیل:۷۳) خدا پر یقین بڑی دولت ہے ۔ پس اندھا وہی ہے جس کو اسی دنیا میں خد اپر پورا یقین حاصل نہیں ہوا ۔ پس جب اس کا حسن ؔ، جمال ؔ، جلال اس پر ظاہر ہوگا ، تو خدا کی تجلّی ہوگی ۔ اور پھر یقین یہ دیکھ کر ممکن نہیں کہ گناہ کی طرف انسان رجوع کرسکے ۔ پس گناہ بھی تبھی ہی کرتا ہے ۔ جب اس کو خد اپر شک پڑجاتا ہے ۔ پس جو شخص نفس کا خیر اخواہ ہے اس کو تو خدا پر یقین رکھنا چاہئیے ۔ مسیح کہ زمانہ میں تو گناہ کی کمی تھی ؛ مگر کفّارہ ہے دنیا کو گناہ سے پُر کر دیا ۔ انسا ن اپنی کوشش کچھ نہیں کر سکتا ۔ حدیث میں آیا ہے تم سب اندھے ہو ۔ مگر جس کو خدا آنکھیں دے۔تم سب بہرے ہو مگر جس کوکان دے وغیرہ وغیرہ ۔ پس جب انسان کو خدا ہدایت دینے لگتا ہے تو اس کے دل میں ایک واعظ پیدا کر دیتا ہے ۔ پس جب تک دل کا واعظ نہ ہو تو تسلّی نہیں ہو سکتی ۔ پس دینی امور میں جب تک تقویٰ نہ ہو روح القدس سے تائید نہیں ملے گی ۔ وہ شخص ضرور ٹھوکر کھا کر گرے گا ۔ اس دین کی جڑتقویٰ جاور نیک بختی ہے اور یہ ممکن نہیں جب تک خدا پر یقین نہ ہو ۔ اور یقین سوائے خدا کے اور سے ملتا نہیں ۔ اسی لیے فرمایا: ۔ والذین جاھدو فینا لنھدینہم سبلنا ( العنکبوت : ۷۰ ) پس انسان دنیا کوچھوڑکر اپنی زندگی پر نظر ڈالے اور اپنی حالت پر رحم کرے کہ میں نے دنیا میں کیا بنایا سوچے اور ظاہر ی الفاظ کی پیروی نہ ۔ اور دعاؤں میں مشغول رہے تو امید ہے کہ خدا اس کو اپنی راہ دکھا دے گا ۔نیک دل لے کر خد اکے سامنے کھڑا ہو اور رو رو کر دُعایں مانگے ۔ تضّرع اور عاجزی کرے ۔ تب ہدایت پاوے گا۔ ایک فرقہ وہ بھی ہے ری باتوں کو قبول نہیں کرتا ۔ اس سے ہماری بحث نہیں ۔ اُن کی سرشت میں انکا ر ہے ۔وہ موت کے بعد اس کا نتیجہ دیکھ لیں گے۔ سعادت مند کو سمجھانے کی ضرورت نہیں ۔پتھر پر لو ہا مارنے سے آگ اس لئے نکلتی ہے کہ آگ پتھر میں