پر معرفت الٰہی پیدا ہو جاوے۔یہ بات بھی بد یہی ہے کہ انسان کو زیادہ مصیبت اس بات کی ہے کہ طرح طرح کے مصائب شدائدکسل وغیرہ کیڑے ایسے لگے ہوئے ہیں کہ اس کھاتے اور خداسے روکتے ہیں۔ اور انہیں کی وجہ سے انسان اور خدا کے درمیان ایک بُعد پڑاہوا ہے ۔
پس اس مذہب میں ایسے وسائل ہوں جو اس کوروز بروز کھینچتے جاویں اور کامل یقین پیدا کرک ے خدا سے ملادیں ۔
دنیا تو یہی سمجھتی ہے کہ کیا ہم خدا کے منکر ہیں ۔لیکن اس کے اعمال کہتے ہیں کہ ضرور وہ منکر ہے ۔میں نے اس بات کا ذکراکثر کتابوں میںبھی کیا ہے ۔ دیکھو۔ اگر ایک سوراخ میں سانپ ہو ۔ تو کیا ایک شخص اس بات کو جان کر اس سوراخ کے قریب جاوے گا ۔ یا اس میں ہاتھ ڈالے گا ؟ ایک بن میں بہت سے درندے رہتے ہیں۔ کیا باوجود علم کے اس بَن میں کوئی جاوے گا ؟ایک زہریلے کھانے کو علم پاکر کھاوے گا ؟پس معلوم ہوا کہ یہ امر یقین کے لوازم میں سے ہے کہ جس چیز کو وہ مہلکسمجھتا ہے،اس کے قریب نہ جاوے ۔پس ایسا کیوں ہوتا ہیکہ ایک موقع پر حقوقِ انسانی کو چھینتا ہے ،تلف کرتا ہے ،رشوت لیتا ہے ،چوری کرتا ہے ،بد معاشی کرتاہے ،نہ غصّہ اعتدال پر ہے وغیرہ وغیرہ پھر پیرانہ سالی اس کو اب گناہوں سے چھڑاتی ہے ۔پر جب تک جسمانی قویٰ اس کے ساتھ ہیں ۔ہر ایک قسم کی بد کاریاں کرتا ہے پس معلوم ہو تا ہے کہ اس کا خدا پر ایمان نہیں ۔
ہر ایک شخص اپنے نفس سے گواہی لے سکتا کہ جیسا اس کا حق ہے اعتدال پر چلنے کا۔ویسا وہ نہیں چلتا۔پس بڑا مقصود یہ ہے کہ یہ جو بے اعتدالیاں انسان سے ظہو ر میں آتی ہیں ۔ان پر غور کرے کہ اُن کا سبب کیا ہے ۔تو آخر معلوم ہو گاکہ جیسا خدا سے ڈرنا چاہئے ۔وہ پورا پورا نہیں ہے ۔
بعض دفعہ احسا ن سے اور بعض دفعہ خوف سے گناہ کم ہو جاتے ہیں ۔جیسے نسبتاََ شریر لوگ ایّام امراضِ طاعون و ہیضہ میں نمازیں شروع کر دیتے ہیں ۔پس ضروری ہے کہ جہاں دو باتیں پائی جاویں ۔ تعلیم پاک اور رفتہ رفتہ خدا تک پہنچ جانا۔وہی سچّا مذہب ہے ۔اور یہ دونو ں ذریعہ ایسے ہیں کہ سوائے اسلام کے کہیں نہیں ملیں گے ۔جس خدا کو اسلام پیش کرتا ہے ۔اس صفائی سے اور کسی مذہبنے پیش نہیں کیا ۔ایک طرف تو اسلام کی تعلیم اعلیٰ ہے دوسری طرف ایک شخص دس دن بھی تبدیلی کرے تو اس پر انوار و برکات نازل ہو نے شروع ہو جاتے ہیں ۔آجکل اسلام کے بہت فرقے ہو گئے ہیں ۔گویا گھر گھر ایک فرقہ بنا ہو ا ہے۔اس سے تشویش ہو گئی ہے ۔ایک طرف شیعہ ہیں کہ حسین ؓ کو مثل لات کے بنا رکھا ہے ۔تو ایک شخص کہہ دے گاکہ کہاں جاؤں ۔شیعہ حسین پرست بنے ہو ئے ہیں ۔خوارج علی کو گالیاں دیتے ہیں ۔درمیان میںاہلِ سنّت ہیں؛اگرچہ بظاہر اُن کا اعتدال نظر آتا ہے ، مگر اب اُنھوں نے ایسے قابلِ شرم اعتقاد بنارکھے ہیں کہ وہ شرک