۱۱؍ اکتوبر ۱۹۰۲ء یوم شنبہ
جلدی میں رائے قائم نہ کریں
ایک صاحب نواردکوجن کانام مولوی حامد حسین صاحب تھا ۔ مخاطب کر کہ فرمایا:
بہتر ہے ۔کہ آپ پانچ سات دن یہاں قیام کریں اتنا عزم و جلد واپس چلا جانا ٹھیک نہیں ۔ دنیاوی کاموں میں لوگ کتنی تحقیقات اور چھن بین کرتے ہیں ۔ حقیقت میں جوشخص جلدی رائے قائم کر لیتا ہے ۔ وہ دوسروں کو بھی ابتلاء میں ڈالتا ہے ۔ پس خلاف واقعہ رائے ظاہر قائم کرنا خون کرنے کہ برابر ہے ۔ بہت باتیں ایسی ہوتی ہیںکہ جوں جوں انسان ان پر زیادہ غور کرتا ہے ،اسی قدر نتیجہ عمدہ نظر آتا جاتا ہے ۔
انسان کو سچائی تک پہنچنیکے واسطے دو باتوںکی ضرورت ہے ۔ اوّل خدا داد سمجھ اور سعادت ہو ۔ جن لوگوں کو مناسبت نہیں ہوتی ۔ ان کے دلوں میں کراہت اور اعتراض ہی پیدا ہوتے جاتے ہیں ۔ اور یہی وجہ ہے کہ گذشتہ لوگوں میں سے اکثر لوگوں نے راستبازوں کا انکار کیا ۔
آپ دور دراز سے آئے ہیں اور آپ کو آتے ہی ایک روک پیدا ہو گئی ۔ اور ہم نے تو ایک ہی روک کا ذکر سنا ہے ۔ مخالفانہ گفتگو کے بجُزا حقاق حق نہیں ہوتا ۔ بہت لوگ منافقانہ طور پر ہاں میں ہاں ملاتے ہیں ۔ پس ایسے لوگ کچھ فائدہ نہیں اُٹھاتے ۔تم خُوب جی کھول کراعتراضکرو ۔ہم پورے طور پر جواب دینے کو تیار ہیں ۔
سچّے مذہب کی شناخت
مولوی حامد حسین صاحب کی طرف سے سوال ہوا کہ تمام اہل مذاہب اپنے مذہب کو صحیح خیال کر رہے ہیں ۔ہم فیصلہ کس طور سے کریں؟فرمایا:
بات یہ ہے کہ آجکل بلکہ ہمیشہ سے سچّے مذہب کی شناخت کے لئے ضروری ہے کہ دو باتیں اس میں موجود ہوں۔اوّل کہ اس کی تعلیم پاک ہو ۔اور تعلیم پر انسان کی عقل اور کانشنس کا کوئی اعتراض نہ ہو ۔کیونکہ ناممکن ہے کہ خدا کے امور ناپاک ہو ں ۔دوم۔اس کے ساتھ تائیدات سمادیہ کاسلسلہ ایسا وابستہ ہو کہ جس کے ساتھ انسان خدا کو پہچان سکے اور اس کی تمام صفات کا مشاہدہ کرے تاکہ گناہ سے بچ سکے۔گو انسان سچے مذہب میں ہی داخل ہو پر اگر اس کے ساتھ کشتی نہیں تو وہ ایسے چشمہ کی مثل ہے کہ جو ایسی جگہ واقع ہے جس کے ارد گرد پہاڑ یا دیوار یا ایسا خارستا ن ہے کہ وہاں ہم کسی طرح پہنچ نہیں سکتے ۔پس ایسا چشمہ ہمارے لئے فضول ہے ۔غرض ضروری ہے شرط یہ ہے کہ اس قدر اسباب موجود ہوں ۔جن سے پکّی طرح