ہی جلد چند سال میں یقینا غالب ہونے والے ہیں پہلے اور آئندہ آنے والے واقعات کا علم اور ان کے اسباب اللہ ہی کے ہاتھ ہیں جس دن رومی غالب ہوں گے وہی دن ہوگا جب مومن بھی خوشی کریں گے۔
اب غور کرکے دیکھو کہ یہ کیسی حیرت انگیز اور جلیل القدر پیشگوئی ہے ایسے وقت میں یہ پیش گوئی کی گئی جب مسلمانوں کی کمزوراور ضعیف حالت خود خطرے میں تھی نہ کوئی سامان تھا نہ طاقت تھی ایسی حالت میں مخالف کہتے تھے کہ یہ گروہ بہت جلد نیست و نابود ہو جائے گا مدت کی قید بھی اس میں لگا دی اور پھر یومئذ یفرح المؤمنون کہہ کر دوہری پیشگوئی بنادی یعنی جس روز رومی فارسیوں پر غالب آئیں گے اسی دن مسلمان بھی بامراد ہو کر خوش ہوں گے؛ چنانچہ جس طرح یہ پیشگوئی کی تھی اسی طرح بدرؔ کے روز یہ پوری ہو گئی ادھر رومی غالب آئے اور ادھر مسلمانوں کو فتح ہوئی ۔ اسی طرح سورۂ یوسف میں آیات للسائلین کہہ کر اس سارے قصہ کوآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بطور پیشگوئی بیان فرمایا ہے۔
غرض جہاں تک دیکھا جاوے قرآن شریف کی پیشگوئیاں بڑے اعلی درجہ پر واقع ہوئی ہیں اور کوئی کتاب اس رنگ میں ان پیشگوئیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی کیونکہ یہ پیشگوئیاں یہی نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں پوری ہو گئی تھیں بلکہ ان کاسلسلہ برابرجاری ہے؛چنانچہ بہت سے پیشگوئیاں تھیں جو اب پوری ہو رہی ہیں اوربہت اب بھی باقی ہیں جو آئندہ پوری ہوں گی۔
منجملہ ان پیشگوئیوں کے جوا س وقت پوری ہو رہی ہیں اس سلسلہ کی پیشگوئی ہے جو قرآن شریف کے اول سے شروع ہو کر آخر تک چلی گئی ہے ؛ چنانچہ سورۂ فاتحہ میں صراط الذین انعمت علیہم کہہ کر مسیح موعود کی پیشگوئی فرمائی اور پھر اس سورت میں مغضوب اور ضالین دو گروہوں کا ذکر کے یہ بھی بتا دیا کہ جب مسیح موعود آئے گا تو اس وقت ایک قوم مخالفت کرنے والی ہو گی جو مغضوب قوم یہودیوں کے نقش قدم پر چلے گی۔اور ضالین میںیہ اشارہ کیا کہ قتل دجّال اور کسرِصلیب کے لئے آئے گا،کیونکہ مغضوب سے یہود اور ضالین سے نصاریٰ بالاتفاق مراد ہیں اور آخر قرآن شریف میں بھی شیطان کا ذکر کیا , جو اصل دجّال ہے اور ایسا ہی سورۂ نور کی آیت استخلاف میں مسیح موعود خاتم الخلفاء کی پیشگوئی کی اور سی طرح سورۂ تحریم میں صراحت کے ساتھ ظاہر کیا کہ اس امت میں بھی ایک مسح آنے والا ہے کیونکہ جب مومنوں کی مثال مریم کی سی ہے تو اس امت میںکم ا ز کم ایک شخص تو ایسا ہو جو مریم صفت ہو اور مریم میں نفخ روح ہو کر مسیح پیدا ہو توا س مومن میں جب نفخ روح ہو گا تو خو د ہی مسیح ہو گا۔٭
ان پیشگوئیوں کا ظہور جو اس سلسلہ کی صورت میں ہوا ہے تو کیا یہ چھوٹی سی بات ہے ۔ یہ سلسلہ بہت