اگر بر وجودم نِشستے مگس پہ پریشاں شد خاطرے چند کس یہ زمانہ کہاں مل سکتے ہیں ۔ لکھا ہے کہ ایک بادشاہ چلاجاتا تھا ۔ چند چھوٹے لڑکوں کو دیکھ کر روپڑا ۔ جب سے اس صحبت کوچھوڑ ا ، دکھ پایاہے ۔ پیرانہ سالی کا زمانہ بُرا ہے ۔ اس وقت عزیز بھی چاہتے ہیں کے مر جاوے اور مرنے سے پہلے قویٰ مر جاتے ہیں ۔ دانت گر جاتے ہیں۔ آنکھیں جاتی رہتی ہیں ۔اور خواہ کچھ ہی ہو ۔آخر پتھر کا پتلاہواجاتا ہے شکل تک بگڑ جاتی ہے ۔ اور بعض ایسی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔ کہ آخرخود کشی کر لیتے ہیں۔ بعض اوقات جن دکھوں سے بھاگناچاہتا ہے ۔ یکدفعہ ان میں مبتلا ہواجاتا ہے اور اگراولاد ٹھیک نہ ہو تو اور بھی دکھ اُٹھاتا ہے ۔ اس وقت سمجھتا ہے کہ غلطی کی اور عمر یونہی گذر گئی ۔ مگر …دوہرا ؎ آگے کے دن پاچھے گئے ہر خدا سے کیونہ ہیت اب پچتائے کیا ہوت ہے جب چڑیا چُگ گئیں کھیت عقلمند وہی ہے جو خدا کی طرف توجہ کرے ۔ خد اکو ایک سمجھے ۔ اس ے ساتھ کوئی نہیں ۔ ہم نے آزماکردیکھاہے ۔ نہ کوئی دیوی نہ کوئی دیوتا۔ کوئی کا م نہیں آتا ۔ اگر یہ صرف خدا کی طرف نہیں جھکتا تو کوئی اس پررحم نہیں کرتا۔ اگر کوئی آفت آجاوے ، تو کوئی نہیں پوچھتا ۔ انسان پر ہزاروں بلائیں آتی ہیں پس یا د رکھو کہ ایک پرور دگار کے سوا کوئی نہیںوہی ہے جو ماں کے دل میں محبت ڈالتا ہے ۔ اگر اس کے دل کو ایسا پیدا نہ کرتا، تو وہ بھی پرورش نہ کر سکتی ۔ اس لیے اس کے ساتھ کسی کوشریک نہ کرو ۔ ۱؎ تحفۃ الندوۃ ۱۰ ؍ اکتوبر ۱۹۰۲ء؁ یوم جُمعہ فرمایا: نددہ میں وہ لوگ اتمام حجت کی غرض سے ہم بھیجے ہیں ۔ ورنہ کچھ بہترکی امیدہر گز نہیں ۔ کیونکہ ان کے اغراض عوام سے وابستہ ہیں ۔ یہاں تو ان کو تحفۃ الندرۃ دے کر بھیجا ہے ۔ اگر خدا نے چاہا تو نزول المسیح دلّی بھیجیں گئے ۔ والسّلام : ۔