تمہاری کیا عمر ہے؟ اس نے کہا کہ ۵۵ سال کی ہوگی؛ حالانکہ وہ ۶۵ سال کا تھا۔قائم علی نے اس کو کہاکہ کیا ہوا۔ ابھی تو بچے ہو ۔خود بھی وہ یہی بتایا کرتا تھا ۔میں نے کہا کہ ۵۵ کاس سال بڑا مشکل ہے ۔یہ ختم ہونے میں نہیں آتا ۔غرض انسان عمر کا خواہشمند ہو کر نفس کے دھوکوں میں پھنسا رہتا ہے ۔دنیا میں عمریں دیکھتے ہیں کہ ۶۰ کے بعد تو قویٰ بالکل گداز ہو نے لگتے ہیں ۔بڑا ہی خوش قسمت ہوتا ہے وہ جو ۸۰یا۸۲ تک عمر پائے اور قویٰ بھی کسی حد تک اچھے رہیں ؛ورنہ اکثر نیم سودائی ہو جاتے ہیں ۔اُسے نہ تو پھر مشورہ میں داخل کرتے ہیں اور نہ اس میں عقل اور دما غ کی کچھ روشنی باقی رہتی ہے ۔ بعض وقت ایسی عمر کے بڈھوںپر عورتیں بھی ظلم کرتی ہیں کہ کبھی کبھی روٹی دینی بھی بھول جاتے ہیں ۔ اصل بات یہ ہے کہ درجوانی کا درجہانی کن ۔ اور مشکل یہ ہے کہ انسان جوانی میں مست رہتا ہے اور مرنا یاد نہیں رہتا ۔ بُرے بُرے کام اختیار کرتا ہے اورآ خر میں جب سمجھتا ہے تو پھر کچھ کر ہی نہیں سکتا۔ غرض اس جوانی کی عمر کو غنیمت سمجھنا چاہئیے ۔ نشان زندگانی تا بسی سال چو چل آمد فرد ریز د پرَد بال انحاط عمر کا چالیس سال سے شروع ہوجاتا ہے ۔۳۰ یا ۳۵ برس تک جس قدر قد ہونا ہوتا ہے ، وہ پورا ہوجاتا ہے اور بعد اس کے بڈھے ہو کر پھولنا شروع ہوجاتا ہے اور پھولنے کا نتیجہ فالج ہوجاتا ہے ۔ شرمپت اس وقت جانے لگا ۔ فرمایا : بیٹھو !ان کے ساتھ جانا ۔ یہ شرطِ وفا نہیں۔ پھر حضرت اقدس نے اس سلسلہ سابقہ میں فرمایاکہ : جس قدر ارادے آپ نے اپنی عمر میں کئے ہیں ۔ اُن میں سے بعض پورے ہوئے ہوں گے ، مگر اب سوچکر دیکھو کہ وہ ایک بُلبُلہ کی طرح تھے جو فوراً معدوم ہوجاتے ہیں ۔ اور ہاتھ پلّے کچھ نہیں پڑتا ہے ۔ گذشتہ آرام سے کوئی فائدہ نہیں ۔ اس کے تصور سے دکھ بڑھتا ہے ۔ اس سے عقل مند کے لیے یہ بات نکلتی ہے کہ انسان ابن الوقت ہو۔ رہی ہے انسان کی جو اس کے پاس موجودہے ۔ جو گذر گیا ۔ وہ وقت مر گیا ۔ اس کے تصورات بے فائدہ ہیں ۔ دیکھو جب ماں کی گود میں ہوتا ہے اس وقت خوش ہوت اہے سب اُٹھاتے ہوئے پھرتے ہیں ۔ وہ زمانہ ایسا ہوتا ہے کہ گویا بہشت ہے ۔ اور اب یاد کر کے دیکھو کہ وہ زمانہ کہاں ہے ؟ سعدی ؔکہتا ہے ؎ من آنگہ سر تا جور داشتم کہ بر فرقِ ظلِّ پد ر داشتم