کا شکر کرنا چاہیے جو کسی حکومت کے،نیچے نہیں اور جسے فکر نہیں کہ رات کو یادن کو کوئی آواز آئے گی۔بعض لوگ اسیسر ہونے میں اپنی عزت سمجھتے ہیں،مگر میں ین دیکھا ہے کہ وہ بڑے پابند ہوتے ہیں۔ایک بار ایک اسیسر کو جو اپنے وقت پر نہیں آیا تھا۔سزا ہوئی۔اس نے کہا کہ میں شادی پر یا کہیں اور گیا تھا۔حاکم نے اُسے کہا کہ کیا تم کو معلوم نہ تھا۔کہ میں اسیسر ہوں اور سزا دے دی۔آخر چیف کورٹ نے اس کو بری کر دیا۔غرض اس قسم کے مصائب اور مشکلات ہوتی ہیں اور پھر ان بیچاروں کی حالت تاتریاق از عراق آوردہشود کی مصداق ہو جاتی ہے خواہ اپیل میں بری ہو جاویں۔مگر وہ بے عزتی اور مصائب کا ایک بار تو منہ دیکھ لیتے ہیں۔کیا اچھا کہا ہے سعدیؔ نے : ؎
کس نیاید بخانۂ درویش
کہ خراج بوم و باغ گذار
جس قدر انسان کسمکش سے بچا ہوا ہو اسی قدر اس کی مرادیں پوری ہوتی ہیں۔کشمکش والے کے سینہ میں آگ ہوتی ہے اور وہ مصیبت میں پڑا ہوا ہوتا ہے۔اس دنیا کی زندگی میں یہی آرام ہے کہ کشمکش سے نجات ہو۔کہتے ہیں ایک شخص گھوڑے پر سوار چلا جاتا تھا۔راستہ میں ایک فقیر بیٹھا تھا جس نے بمشکل اپنا ستر ہی ڈھانکا ہوا تھا۔اُس نے اُس سے پوچھا کہ سائیں جی کیا حال ہے؟ فقیر نے ا۲سے جواب دیا کہ جس کی ساری مرادیں پوری ہو گئے ہوں۔اس کا حال کیسا ہوتا ہے؟ اُسے تعجب ہوا کہ تمہاری ساری مرادیں کس طرح حاصل ہو گئے ہیں۔فقیر نے کاہ جب ساری مرادیں ترک کر دیں، تو گویا سب حاصل ہو گئیں۔حاصل کلام یہ ہے کہ جب یہ سب حاصل کرنا چاہتا ہے تو تکلیف ہی ہوتی ہے۔لیکن جب قناعت کر کے سب کو ثھوڑ دے،تو گویا سب کچھ ملنا ہوتا ہے۔نجات اور مکتی یہی ہے کہ لذت ہو دکھ نہ ہو۔دُکھ والی زندگی تو نہ اس جہان کی اچھی ہوتی ہے اور نہ اُس جہان کو۔جو لوگ محنت کرتے ہیں اور اپنے دلوں کو صاھ کرت یہی۔وہ گویا اپنی کھال ا۲تارتے ہی۔اس لیے کہ یہ زندگی تو بہرحال ختم ہو جائے گی۔کیونکہ یہ برف کے ٹکڑہ کی طرح ہے خواہ اس کو کیسی ہی صندوقوں اور کپڑوں میں لپیٹ کر رکھو،لیکن وہ پگھلتی ہی جاتی ہے۔اسی طرح پر خواہ زندگی کے قائم رکھنے کی کچھ بھی تدبیریں کی جاویں۔لیکن یہ سچی بات ہے کہ وہ ختم ہوتی جاتی ہیں۔اور روز بروز کچھ نہ کچھ ھرق آتا ہی جاتا ہے۔دنیا میں ڈاکٹر بھی ہی۔طبیب بھی ہیں۔مگر کسی نے عمر کا نسخہ نہیں لکھا۔جب لوگ بڈھے ہو جات یہیں۔پھر ا۲ن کو خوش کرنے کو بعض لوگ آجاتے ہیں۔اور کہہ دیتے ہیں کہ ابھی تمہاری عمر کیا ہے؟ ساٹھ برس کی بھی کوئی عمر ہوتی ہے۔اس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔رحمت علی ایک مذکوری تھا۔اس کا بیتا فقیر علی منصف ہو گیا تھا اور لوگ اس وجہ سے اس کی عزت بھی کیا کرتے تھے۔ڈپٹی قائم علی نے ایک دفعہ اس سے پوچھا