مگر جیسے وہاں پہلے ہی سے فیصلہ ہو چکا تھا کہ ان سے الگ ہیں۔ویسے ہی یہان بھی۔جہان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مشورہ کیا گیا تا۔اس کا نام دارالندوہ تھا۔وہ بھی آخری حیلہ تھا اور یہ بھی آخری حیلہ ہے۔ امرتسر مکّہ کی طرح ہو رہا یہ۔گندے اشتہار وہاں ہی سے شائع ہوتے ہیں۔ابو جہل کے اخوان و انصار وہاں موجود ہیں اور دارالندوہ کی کمی تھی۔وہ بھی آگیا۔ بعد عصر عصر کی نماز سے فارغ ہو کر جب حضرت اقدسے اندر تشریف لے گئے۔تو لالہ شرمپت رائے اور لالہ ملادامل جو قادیان کے آریوں میں پرانے آریہ ہیں اور حضرت اقدسؑ کی اکثر پیشگوئیوں کے گواہ ہیں۔اپنے اکثر احباب کو لے کر حضرت اقدس کی ملاقات کو آگئے۔آپ نے ان میں سے ایک شخص معمر سفید ریش کو مخاطب کر کے فرمایا : کشمکش کی زندگی دنیا کی کشمکش کی زندگی میں لذّت نہیں۔اگر خدا تعالیٰ کسی کو بیٹھے بٹھائے گذارہ دیدے تو کچھ ضرورت نہیں کہ انسان اہل حکومت کے پاس جاوے۔ان لوگوں کے پا سجانا یہ بیھ ایک قسم کا دوزخ ہے۔ان لوگوں کی حالت خارش کی طرح ہے۔کہ جو ایک مرض ہے اور کھجلا نے والوں کو اس میں ایک لذت ملتی ہے۔لیکن وہ شخص احمق ہی ہوگا جو اس لذت کو پسند کرے۔اسی طح حکام کے دروازوں پر جانا ایسا ہی ہے۔گوشہ نشینی کی زندگی ایک قسم کی بہشتی زندگی ہے۔کسی نے کہا ہے ؎ بہشت آنجا کہ آزارے نباشد کسے را با کسے کارے نبا شد بچپن میں جو بچوں کو مدرسہ میں بٹھا تے ہیں۔اس کی کسمکش ساری عمر یادرہتی ہے۔اُستاد کی حکومت کے نیچے ایک قسم کی تلخی معلوم ہوتی ہے۔ہمیں اس وقت تک بھی یاد ہے کہ چھٹی کے دن کے بعد یعنی ہفتہ کو جو مدرسہ کا جانا ہوتا تھا،تو سخت ناگوار گذرا کرتا تھا۔اور تو کچھ یاد نہیں رہا،مگر یہ درد ضرور یاد ہے کہ مدرسہ جانا ایک درد محسوس ہوا کرتا تھا،کیونکہ مرض کے خلاف بھی ایک درد ہی ہوا کرتا ہے۔اور جو لوگ حکام کے دروازوں پر جاتے ہٰں جیسے ذیلدار وغیرہ یا اور اسی قسم کے لوگ یہ عجیب عجیب قسم کے ابتلاء میں پھنس جاتے ہی۔بعض کو رشوت لینے کی عادت ہوجاتی ہے۔وہ آدمی بڑا ہی خوش نصیب ہے اور اس کو خدا