سلسلہ قائم کیا ہے،تو اول المکذبین یہی لوگ ہوئے ہیں۔اور انہوں نے ہی کفر کے فتوے دیئے ہیں۔بعض آدمیوں نے کہا کہ یہ طاعون گویا ہماری سامتِ اعمال کا نتیجہ ہے۔یہ آواز کوئی بئی آواز نہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی کہا گیا تھا۔
وان تصبھم سیئۃ یطیروابموسیٰ ومن معہ (الاعراف : ۱۳۲)
مگر مجھے یہ تعجب ہے کہ یہ لوگ طاعون کو ہماری شامت اعمال کا نتیجہ بتاتے ہیں۔لیکن مبتلا خود ہوتے ہیں؛حالانکہ اگر ہماری شامتِ اعمال تھی تو چاہیے تھا کہ طاعون کی خبر تم کو دی جاتی۔مگر یہ کیا ہوا کہ خبر بھی ہم کو دی گئے اور موتیں تم میں ہوتی ہیں۔بر خلاف ا سکے کہ ہماری حفاظت کا وعدہ کیا جاتا اور اسے ایک نشان ٹھہرایا جاتا ہے۔کچھ تو خدا سے ڈرو۔
خدا کے نذیر کے لیے زور آور حملے
خدا تعالیٰ کے نزدیک نذیر وہ ہوتا ہے جو خدا اس یک لیے تائیدی نشان جن میں اس کے مخالفوں کے لیے خوف ہو۔اوپر سے نازل کرتا ہے۔لکھا ہے کہ خدا اُسے قبول کرے گا۔اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔خدا تعالیٰ کی پہلی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ زور آور حملے طاعون کے ہیں۔جن سے ہر راہ بند کی جاتی ہے اور منہ سے اقرار کرنا پڑتا ہے۔ یامسیح الخلق عدوانا۔
نَدوَہ
ندوہ کے متعلق ذکر تھا۔فرمایا :
اصل یہ ہے کہ متقی کے لیے تو بولنے کی جگہ نہیں ہے۔ہم نے جو کچھ لکھا ہے۔کہ
واﷲ مخرج ماکنتم تکتمون (البقرہ : ۷۳ )
یہ لوگ جو امرت سر میں آئے ہیں ان کی بھی چھوٹی تہذیب نہ رہے ،بلکہ اس کی حقیقت کھُل جاوے۔یادرکھو مداہنہ سے حق نہیں پھیلتا۔بلکہ رہی سہی برکت بھی جاتی رہتی ہے۔اگر کوئی شخص ڈر کر کہ یہ علماء کی جماعت ہے ان کے ساتھ ہو جاوے۔ہم کو اُس کی پرواہ نہیں۔جن لوگوں کے لیے سعادت مقدر یہ،ان کا حرج نہیں۔خدا تعالیٰ ان کا آپ محافظ ہے اور یہ ہمیشہ ہوتا آیا ہے کہ بعض خبیث فطرت مرتد ہو جاتے ہیں۔آنحضرت س کے وقت میں بھی اور مسیح کے وقت میں بھی مرتد ہوئے۔
احمق نہیں جانتے کہ ہماری طرف سے بات ہوتی تو یہ شوکت کب رہتی۔طاعون ہی کے ذریعہ سے دس ہزار کے قریب لوگ اس سلسلہ میں داخل ہو چکے ہیں۔اگر یہ سلسلہ خدا کی طرف سے نہ ہوتا تو وہ خود اس سلسلہ کو ہلاک کر دیتا۔آخری حیلے ان لوگوں کے رشتوں ناطوں اور جنازوں کے متعلق ہوتے ہیں۔مکّہ والوں ین بھی کئے تھے۔