مریض۔خون جگر۔
بہرہ۔ بہت اچھی غذا یہ۔
بہرہ۔ (مریض سے) طبیب کون ہے؟
مریض۔ ملک الموت۔
بہرہ۔ طبیب اچھا ہے۔دستِ شفا ہے۔
ان لوگوں کی بھی کچھ ایسی ہی حالت ہے۔
کستی نوحؑ
قرآن شریف سے پتہ لگتا ہے۔کہ جب نوح کا بیٹا طوفان میں غرق ہونے لگا۔تو نوحؑ نے کہا کہ تو آجا۔تو اُس نا کہا کہ مجھے تیرے پاس آنے کی کوئی ضرورت نہیں۔میں پہاڑ پر چڑھ جائوں گا۔گویا وہ نادان اپنے اسباب اور تدابیر سے بچنا چاہتا تھا۔مگر خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ آج تجھے خدا سے کوئی بچانے والا نہیں۔اسی طرح پر میرے الہام میں بھی یہی ہے کہ
واصنع الفلک باعیننا ووحینا ولا تخا طبنی فی الذین ظلمو اانہم مغرقون۔
اور اس مسجد مبارک کے لیے فرمایا
من دخلہٗ کان اٰمنًا
یہ دلالت کرتے ہیں۔کہ ایک طوفانِ عظیم آنے والا یہ اور اس میں وہی لوگ بچیں گے۔جو میری کشتی میں سوار ہوں گے۔اور اب انی احافظ (اخ) بھی اس کا مؤید ہے۔اور وہ طاعون کا طوفان ہے اور براہین میں اس کی طرف اشارہ کر کے صاف فرمایا۔
انی امراﷲ فلا تستعجلون
اس وقت جو اس میں سوار ہوتے ہیں اور اپنی تبدیلی کرتے ہیں وہ بچ جائیں گے۔
طاعون فرمایا :
زمانہ کی رسم کے موافق اب لوگ طاعون کو کہتے ہیں کہ یہ معمولی بات ہے۔یہ ایک قسم کا عام ارتداد ہے جو پھیل رہا ہے۔جو لوگ ڈاکٹر ہوتے ہیںک،وہ تیم دہریہ ہوتے ہیں۔وہ اپنے علاج اور اسباب پر اس قدر توکل اور تکیہ کیے ہوئے ہوتے ہیں۔کہ خدا سے ان کو کوئی تعلق نہیں رہتا۔
پنجاب میں طاعون کا حملہ بہت بڑھ کر ہے۔بمبئی کراچی کا کوئی اوسط اس کے ساتھ مقابلہ نہیں کھاتا۔ارو یہ بہت بڑھی ہوئی تعداد موت کی ہے۔
پنجاب پر طاعون کا حملہ کیوں ہو رہا ہے؟ ہمارے نزدیک اس کی یہ وجہ ہے کہ خدا نے یہاں ایک