محفوظ رہیں گے۔قرآن شریف میں بھی آیا ہے کہ ال تعالیٰ مومنوں اور کافروں میں ایک فرق رکھ دیتا ہے اور ان میں فاروق ہوجاتا ہے اﷲ تعالیٰ ہر شے پر قادر ہے۔ اس زندگی پر کیا مزہ ہے جو حشائش پر ہاتھ مارتا ہے۔وہی زندگی بہشتی زندگی اور قابل قدر زندگی ہے جس میں اﷲ تعالیٰ سے تمسک ہو؛ورنہ حشائش پر ہاتھ مارنے والوں کی زندگی کی تو ایسی مثال ہے۔جیسے بلے کے بچہ کے پیچھے کتا ہو اور وہ چُو یہ کہ بِل پر ہاتھ مارتا پھرے۔ کیا انسان ابتداء میں وحشی تھا جناب ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب نے ذکر کیا کہ ایک شخص نے ان سے اس امر پر گفتگو کی۔کہ انسان پہلے وحشی تھا اور وہ پھر ترقی کرتے کرتے تہذیب کے درجہ پر پہنچا ہے۔فرمایا کہ : جب ہم انسان کو مہذب دیکھتے ہیں تو کیوں اس کی جڑ تہذیب نہ بتائیں۔قرآن شیف سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم۔ ثم ردد نہ اسفل سافلین۔ (الیتن : ۵ -۶) اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ پیچھے وحشی بن گئے۔میں کہتا ہوں۔کیا خدا تعالیٰ کو پہلا نمونہ عمدہ دکھانا چاہئیے تھا یا خراب اور اول الدن دردکا مصداق۔خدا نے برا بنایا تھا اور پھر ِگھِس گھِس کر خود عمدہ بن گیا۔خدا تعالیٰ کی شان میں گستاخی اور توہین ہے۔ مثنوی سے ایک مثال اس کی تو وہی مثال ہے جو مثتوی میں ایک بہرہ کی حکایت لکھی ہے کہ وہ کسی بیماری کی عیادت کو گیا اور خود ہی تجویز کر لیا کہ پہلے مزاج پوچھوں گا۔وہ کہا گا۔اچھا ہے۔میں کہوں گا۔الحمدﷲ اور پھر میں پوچھوں گا۔آپ کیا کھاتے ہیں۔تو چوہکہ وہ بیمار ہے یہی کہے گا کہ مونگ کی دال کھاتا ہوں۔میں کہوں گا بہت اچھا۔اور پھر پوچھوں گا طیب کون ہے۔وہ کہے گا کہ فلاں ہے ۔میں کہوں گا۔خوب ہے۔دست شفا ہے۔لیکن جب وہاں گئے ۔تو بہرہ۔ (مریض سے) آپ کا مزاج کیسا ہے؟ مریض۔مر رہا ہوں۔ بہرہ۔ الحمدﷲ۔ بہرہ۔ (مریض سے) آپ کی غذا کیا ہے؟